Category «گلزار»

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں (گلزار)

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں ایک پرانا خط کھولا انجانے میں شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیں چاند نے کتنی دیر لگا دی آنے میں رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگے دھوپ انڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں جانے کس کا ذکر ہے اس افسانے میں درد مزے لیتا ہے جو دہرانے میں دل …

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے (گلزار)

شام سے آنکھ میں نمی سی ہےآج پھر آپ کی کمی سی ہےدفن کردو ہمیں کہ سانس ملےنبض کچھ دیر سے تھمی سی ہےکون پتھرا گیا ہے آنکھوں میںبرف پلکوں پہ کیوں جمی سی ہےوقت رہتا نہیں کہیں ٹک کراس کی عادت بھی آدمی سی ہےکوئی رشتہ نہیں رہا پھر بھیایک تسلیم لازمی سی ہےآئیے …