Category «گلزار»

کہیں تو گرد اُڑے، یا کہیں غبار دِکھے (گلزار)

کہیں تو گرد اُڑے، یا کہیں غبار دِکھے کہیں سے آتا ہوا کوئی شہسوار دِکھے رَواں ہیں پھر بھی رُکے ہیں وہیں پہ صدیوں سے بڑے اُداس لگے، جب بھی آبشار دِکھے کبھی تو چونک کے دیکھے کوئی ہماری طرف کسی کی آنکھ میں ہم کو بھی انتظار دِکھے خفا تھی شاخ سے شاید، کہ …

ترے عشق میں ہائے! ترے عشق میں (گلزار)

ترے عشق میں ترے عشق میں ہائے! ترے عشق میں راکھ سے روکھی، کوئل سے اکلی رات کٹے نہ ہجراں والی ترے عشق میں ہائے! ترے عشق میں تری جستجو کرتے رہے مرتے رہے ترے عشق میں ترے روبرو بیٹھے ہوئے مرتے رہے ترے عشق میں تیرے روبرو تیری جستجو ترے عشق میں ہائے! ترے …

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے (گلزار)

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے آج پھر آپ کی کمی سی ہے دفن کر دو ہمیں کہ سانس ملے نبض کچھ دیر سے تھمی سی ہے کون پتھرا گیا ہے آنکھوں میں برف پلکوں پہ کیوں جمی سی ہے وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر اس کی عادت بھی آدمی سی ہے کوئی …

ذکر جہلم کا ہے، بات ہے دینے کی (گلزار)

ذکر جہلم کا ہے، بات ہے دینے کی چاند پکھراج کا، رات پشمینے کی کیسے اوڑھے گی ادھڑی ہوئی چاندنی رات کوشش میں ہے چاند کو سینے کی کوئی ایس گرا ہے نظر سے کہ بس ہم نے صورت نہ دیکھی پھر آئینے کی درد میں جاودانی کا احساس تھا ہم نے لاڈوں سے پالی …

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں (گلزار)

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں ایک پرانا خط کھولا انجانے میں شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیں چاند نے کتنی دیر لگا دی آنے میں رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگے دھوپ انڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں جانے کس کا ذکر ہے اس افسانے میں درد مزے لیتا ہے جو دہرانے میں دل …

یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا (گلزار)

یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا مزا گھلتا ہے لفظوں کا زباں پر کہ جیسے پان میں مہنگا قمام گھلتا ہے یہ کیسا عشق ہے اردو زباں کا۔۔۔۔ نشہ آتا ہے اردو بولنے میں گلوری کی طرح ہیں منہ لگی سب اصطلاحیں لطف دیتی ہے، حلق چھوتی ہے اردو تو، حلق سے جیسے مے …

میں کائنات میں سیاروں میں بھٹکتا تھا (گلزار)

میں کائنات میں سیاروں میں بھٹکتا تھا دھوئیں میں دھول میں الجھی ہوئی کرن کی طرح میں اس زمیں پہ بھٹکتا رہا ہوں صدیوں تک گرا ہے وقت سے کٹ کر جو لمحہ اس کی طرح وطن ملا تو گلی کے لیے بھٹکتا رہا گلی میں گھر کا نشاں ڈھونڈتا رہا برسوں تمہاری روح میں …

میرے کپڑوں میں ٹنگا ہے (گلزار)

میرے کپڑوں میں ٹنگا ہے تیرا خوش رنگ لباس گھر پہ دھوتا ہوں ہر بار اسے اور سکھا کے پھر سے اپنے ہاتھوں سے اسے استری کرتا ہوں مگر استری کرنے سے جاتی نہیں شکنیں اس کی اور دھونے سے گلے شکوؤں کے چکتے نہیں مٹتے زندگی کس قدر آساں ہوتی رشتے گر ہوتے لباس …

گیٹ کے اندر جاتے ہیں (گلزار)

ماضی۔۔۔۔ مستقبل گیٹ کے اندر جاتے ہیں، ایک حوضِ خاص ہے سینکڑوں قصوں کی کائی سے بھرا ہوا ہے چاروں جانب چھ سو سال پرانے سائے سوکھ رہے ہیں گزرے وقتوں کی تمثیلوں پر گائیڈ ورق لگا کر ماضی بیچ رہا ہے!! ماضی کے اس گیٹ کے باہر ہاتھوں کی ریکھائیں رکھ کے پٹری پر …