Category «گلزار»

ترے عشق میں ہائے! ترے عشق میں (گلزار)

ترے عشق میں ترے عشق میں ہائے! ترے عشق میں راکھ سے روکھی، کوئل سے اکلی رات کٹے نہ ہجراں والی ترے عشق میں ہائے! ترے عشق میں تری جستجو کرتے رہے مرتے رہے ترے عشق میں ترے روبرو بیٹھے ہوئے مرتے رہے ترے عشق میں تیرے روبرو تیری جستجو ترے عشق میں ہائے! ترے …

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں (گلزار)

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں ایک پرانا خط کھولا انجانے میں شام کے سائے بالشتوں سے ناپے ہیں چاند نے کتنی دیر لگا دی آنے میں رات گزرتے شاید تھوڑا وقت لگے دھوپ انڈیلو تھوڑی سی پیمانے میں جانے کس کا ذکر ہے اس افسانے میں درد مزے لیتا ہے جو دہرانے میں دل …

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے (گلزار)

شام سے آنکھ میں نمی سی ہےآج پھر آپ کی کمی سی ہےدفن کردو ہمیں کہ سانس ملےنبض کچھ دیر سے تھمی سی ہےکون پتھرا گیا ہے آنکھوں میںبرف پلکوں پہ کیوں جمی سی ہےوقت رہتا نہیں کہیں ٹک کراس کی عادت بھی آدمی سی ہےکوئی رشتہ نہیں رہا پھر بھیایک تسلیم لازمی سی ہےآئیے …