Category «شاعری»

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے (داغ دہلوی)

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے جو زمانے کے ستم ہیں وہ زمانہ جانے تو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے تم نہیں جانتے اب تک یہ تمہارے  انداز وہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے …

شوخی نے تیرے کام کیا اک نگاہ میں (داغ دہلوی)

شوخی نے تیرے کام کیا اک نگاہ میں صوفی ہے بت کدے میں، صنم خانقاہ میں دل میں سماگئی ہیں قیامت کی شوخیاں وہ دو چار دن رہا تھا کسی کی نگاہ میں اس توبہ پر ہے ناز تجھے زاہد اس قدر جو ٹوٹ کر شریک ہو میرے گناہ میں آتی ہے بات بات مجھے …

خط میں لکھے ہوئے رنجش کے پیام آتے ہیں (داغ دہلوی)

خط میں لکھے ہوئے رنجش کے پیام آتے ہیں کس قیامت کے یہ نامے مِرے نام آتے ہیں تو سہی حشر میں تجھ سے جو نہ یہ کہوادوں دوست وہ ہوتے ہیں جو وقت پر کام آتے ہیں راہرو راہِ محبت کا خدا حافظ ہے اس میں دو چار بہت سخت مقام آتے ہیں صبر …

جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو (داغ دہلوی)

جو دل قابو میں ہو تو کوئی رسوائے جہاں کیوں ہو خلش کیوں ہو تپش کیوں ہو قلق کیوں ہو فغاں کیوں ہو مزا آتا نہیں تھم تھم کے ہم کو رنج و راحت کا خوشی ہو غم ہو جو کچھ ہو الٰہی ناگہاں ہو  یہ مصرع لکھ دیا ظالم نے میری لوحِ تربت پر …

عجب اپنا حال ہوتا، جو وصال یار ہوتا (داغ دہلوی)

عجب اپنا حال ہوتا، جو وصال یار ہوتا کبھی جان صدقے ہوتی کبھی دل نثار ہوتا کوئی فتنہ تا قیامت نہ پھر آشکار ہوتا ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہییں اعتبار ہوتا یہ مزہ تھا دل لگی کا …

ہر سانس ہے شرحِ ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرے (دل شاہجہاں پوری)

ہر سانس ہے شرحِ ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرے تکمیلِ وفا ہے مٹ جانا ، جینے کی تمنا کون کرے جو غافل تھے ہُشیار ہوئے جو سوتے تھے بیدار ہوئے جس قوم کی فطرت مردہ ہو اس قوم کو زندہ کون کرے ہر صبح کٹی ہر شام کٹی ، بیداد سہی افتاد سہی …

نہ دن پہاڑ لگے اب نہ رات بھاری لگے (شکیب بنارسی)

نہ دن پہاڑ لگے اب نہ رات بھاری لگے نہ آئے نیند تو آنکھوں کو کیا خماری لگے خوشی نہیں تھی تو غم سے نباہ کر لیتے کسی کے ساتھ طبیعت مگر ہماری لگے کوئی نہ ہو کبھی احباب کے کرم کا شکار مری طرح نہ کسی دل پہ زخم کاری لگے ہمیں تڑپتا ہوا …

کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے (فیض انور)

کوئی فریاد ترے دل میں دبی ہو جیسے تو نے آنکھوں سے کوئی بات کہی ہو جیسے جاگتے جاگتے اک عمر کٹی ہو جیسے جان باقی ہے مگر سانس رکی ہو جیسے پر ملاقات پہ محسوس یہی ہوتا ہے مجھ سے کچھ تیری نظر پوچھ رہی ہو جیسے راہ چلتے ہوئے اکثر یہ گماں ہوتا …

ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے (وحشت رضا علی کلکتوی)

ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے کیوں عیاں ہو آنکھ سے وہ غم جو پنہاں دل میں ہے جس سے چاہو پوچھ لو تم میرے سوز دل کا حال شمع بھی محفل میں ہے پروانہ بھی محفل میں ہے عشق غارت گر نے شہہ دی حسن آفت خیز کو شوق بسمل ہی …

سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے (شکیب جلالی)

سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے میں نے پتھر سے جن کو بنایا صنم وہ خدا ہو گئے دیکھتے دیکھتے حشر ہے وحشتِ دل کی آوارگی ہم سے پوچھو محبت کی دیوانگی جو پتہ پوچھتے تھے کسی کا کبھی لاپتہ ہو گئے دیکھتے دیکھتے ہم سے یہ سوچ …