کتابِ عمر کا اِک اور باب ختم ہوا (منیر نیازی)

کتابِ عمر کا اِک اور باب ختم ہوا شباب ختم ہوا اک عذاب ختم ہوا ہوئی نجات سفر میں فریب صحرا سے سراب ختم ہوا اضطراب ختم ہوا برس کے کھل گیا بادل ہوائے شب کی طرح فلک پہ برق کا وہ پیچ و تاب ختم ہوا جواب دہ نہ رہا میں کسی کے آگے …

آج اک افسروں کے حلقے میں (مصطفیٰ زیدی)

بزدل آج اک افسروں کے حلقے میں ایک معتوب ماتحت آیا اپنے افکار کا حساب لئے اپنے ایمان کی کتاب لئے ماتحت کی ضعیف آنکھوں میں ایک بجھتی ہوئی ذہانت تھی افسروں کے لطیف لہجے میں قہر تھا، زہر تھا، خطابت تھی یہ ہر اک دن کا واقعہ، اس دن صرف اس اہمیت کا حامل …

پھیلی ہوئی ہے شام کراں تا کراں مگر (مصطفیٰ زیدی)

آج بھی پھیلی ہوئی ہے شام کراں تا کراں مگر کون و مکاں میں ساعت زنداں ہے آج بھی اس فلسفے کی سوزن پنہاں کے باوجود چاک جگر حقیقت عریاں ہے آج بھی اس نوجوان عصر ترقی پسند میں اک کہنہ یاد وقت بہ داماں ہے آج بھی کیا کیا نگار مثل بہاراں گزر گئے …

میری ہمدم، مرے خوابوں کی سنہری تعبیر (مصطفیٰ زیدی)

اُجالا میری ہمدم، مرے خوابوں کی سنہری تعبیر مسکرا دے کہ مرے گھر میں اجال ہو جائے آنکھ ملتے ہی اٹھ جائے کرن بستر سے صبح کا وقت ذرا اور سہانا ہو جائے میرے نکھرے ہوئے گیتوں میں ترا جادو ہے میں نے معیار تصور سے بنایا ہے تجھے میری پروین تخیل، مری نسرین نگاہ …

کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے (مصفیٰ زیدی)

کوئی رفیق کوئی رفیق بہم ہی نہ ہو تو کیا کیجے کبھی کبھی ترا غم ہی نہ ہو تو کیا کیجے ہماری راہ جدا ہے کہ ایسی راہوں پر رواجِ نقشِ قدم ہی نہ ہو تو کیا کیجے ہمیں بھی بادہ گساری سے عار تھی لیکن! شراب ظرف سے کم ہی نہ ہو تو کیا …

اب کے مٹی کی عبارت میں لکھی جائے گی (مصفیٰ زیدی)

مری پتھر آنکھیں اب کے مٹی کی عبارت میں لکھی جائے گی سبز پتوں کی کہانی، رُخ شاداب کی بات کل کے دریاؤں کی مٹتی ہوئی مبہم تحریر اب فقط ریت کے دامن میں نظر آئے گی بوند بھر نم کو ترس جائے گی بے سود دعا نم اگر ہو گی کوئی چیز تو میری …

آج وہ آخری تصویر جلا دی ہم نے (مصطفیٰ زیدی)

وفا کیسی؟ آج وہ آخری تصویر جلا دی ہم نے جس سے اس شہر کے پھولوں کی مہک آتی تھی جس سے بے نور خیالوں میں چمک آتی تھی کعبئہ رحمتِ اصنام تھا جو مدت سے آج اس قصر کی زنجیر ہلا دی ہم نے آگ، کاغذ کے چمکتے ہوئے سینے پہ بڑھی کرب کی …

رات اوڑھے ہوئے آئی ہے فقیروں کا لباس (مصطفیٰ زیدی)

یاد رات اوڑھے ہوئے آئی ہے فقیروں کا لباس چاند کشکولِ گدائی کی طرح نادم ہے ایک اک سانس کسی نام کے ساتھ آئی ہے ایک اک لمحہ آزاد نفس مجرم ہے کون یہ وقت کے گھونگھٹ سے بلاتا ہے مجھے کس کے مخمور اشارے ہیں گھٹاؤں کے قریب کون آیا ہے چڑھانے کو تمناؤں …

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں (عباس تابش)

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں کس طرح لوگ چلے جاتے ہیں …

پتھر کے خدا پتھر کے صنم پتھر کے ہی انساں پائے ہیں (سدرشن فاکر)

پتھر کے خدا پتھر کے صنم پتھر کے ہی انساں پائے ہیں تم شہرِ محبت کہتے ہو ہم جان بچا کر آئے ہیں بت خانہ سمجھتے ہو جس کو پوچھو نہ وہاں کیا حالت ہے پم لوگ وہیں سے لوٹے ہیں بس شکر کرو لوٹ آئے ہیں ہم سوچ رہیں ہیں مدت سے اب عمر …