بھر جائیں گے جب، زخم تو آؤں گا دوبارہ (ثروت حسین)

بھر جائیں گے جب، زخم تو آؤں گا دوبارہ میں ہار گیا جنگ، مگر دل نہیں ہارا  روشن ہے مری عمر کے تاریک چمن میں اُس کُنجِ ملاقات میں جو وقت گزارا اپنے لئے تجویز کی شمشیرِ برہنہ اور اُس کے لیے شاخ سے اک پھول اتارا کچھ سیکھ لو لفظوں کے برتنے کا قرینہ …

میں جو مدہوش ہوا ہوں جو مجھے ہوش نہیں (بہزاد لکھنوی)

میں جو مدہوش ہوا ہوں جو مجھے ہوش نہیں سب نے دی بانگِ محبت کوئی خاموش نہیں میں تری مست نگاہی کا بھرم رکھ لوں گا ہوش آیا بھی تو کہہ دوں گا مجھے ہوش نہیں تو نہیں نہ سہی، کیف نہیں غم ہی سہی یہ بھی کیا کم ہے کہ خالی مرا آغوش نہیں …

چشمِ حسیں میں ہے نہ رخِ فتنہ گر میں ہے (بہزاد لکھنوی)

چشمِ حسیں میں ہے نہ رخِ فتنہ گر میں ہے دنیا کا ہر فریب فریبِ نظر میں ہے اب کیا خبر دل میں ہے کیا کیا جگر میں ہے اب تو تری نظر کا تماشا نظر میں ہے ایمان رکھ کے کیا کروں فرسودہ چیز ہے مستی مجھے قبول کہ تیری نظر میں ہے حاضر …

ٹوٹا طلسمِ وقت تو کیا دیکھتا ہوں میں (انور شعور)

ٹوٹا طلسمِ وقت تو کیا دیکھتا ہوں میں اب تک اسی جگہ پہ اکیلا کھڑا ہوں میں یہ کشمکش الگ ہے کہ کس کشمکش میں ہوں آتا نہیں سمجھ میں ، بہت سوچتا ہوں میں مجھ سے نہیں اسے مرے فردا سے ہے امید منزل ہے کوئی اور فقط راستہ ہوں میں کیا یہ جگہ …

والہانہ نہیں برتاؤ تمہارا ہم سے (انور شعور)

والہانہ نہیں برتاؤ تمہارا ہم سے کیا تمہیں اور کوئی شخص ہے پیارا ہم سے کس لیے شانہ بشانہ ہیں نہ جانے ہم تم ہمیں تم سے نہ تمہیں کوئی سہارا ہم سے دل اڑا لے گئی دزدیدہ نگاہی اس کی چھن گیا آہ عجب مال ہمارا ہم سے ہم نے اظہارِ تمنا کا اثر …

یہ خود کو دیکھتے رہنے کی ہے جو خو مجھ میں (انور شعور)

یہ خود کو دیکھتے رہنے کی ہے جو خو مجھ میں چھپا ہوا ہے کہیں وہ شگفتہ رو مجھ میں تغیراتِ جہاں دل پہ کیا اثر کرتے ہے اب بھی تیری وہی شکل ہو بہو مجھ میں رفو گروں نے عجب طبع آزمائی کی رہی سرے سے نہ گنجائشِ رفو مجھ میں وہ جس کے …

یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور (آنس معین)

یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اور دکھ مجھ کوہے اور نیر بہائے گا کوئی اور کیا پھر یوں ہی دی جائے گی اجرت پہ گواہی کیا تیری سزا اب کے بھی پائے گا کوئی اور انجام کو پہنچوں گا میں انجام سے پہلے خود میری کہانی بھی سنائے گا کوئی اور تب …

من بیوراگی تن انوراگی ، قدم قدم دشواری ہے (ندا فاضلی)

من بیوراگی تن انوراگی ، قدم قدم دشواری ہے جیون جینا سہل نہ جانو ، بہت بڑی فنکاری ہے اوروں جیسے ہو کر بھی ہم باعزت ہیں بستی میں کچھ لوگوں کا سیدھا پن ہے، کچھ اپنی عیاری ہے جب جب موسم جھوما ہم نے، کپڑے پھاڑے شور کیا ہر موسم شائستہ رہنا ، کوری …

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو (ندا فاضلی)

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو کسے کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں تم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کےا گر تم سنبھل سکو تو چلو کہیں نہیں …

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا (ندا فاضلی)

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا تمام شہر میں ایسا نہیں خلوص نہ ہو جہاں امید ہو اس کی وہاں نہیں ملتا کہاں چراغ جلائیں کہاں گلاب رکھیں چتھیں تو ملتی ہیں لیکن مکاں نہیں ملتا یہ کیا عذاب ہے سب اپنے آپ میں گم ہیں زباں ملی …