بیت گیا طوفان پریت کا (منیر نیازی)

خوشی کا گیت بیت گیا طوفان پریت کا بیت گیا طوفان ساری رات کٹھن تھی کتنی جیسے جلے پہاڑ درد کا بادل گرجا جیسے بندوقوں کی باڑ بجلی بن کر کڑک رہے تھے چاہت کے ارمان بیت گیا طوفان ختم ہوا وہ ارمانوں کے پاگل پن کا زور مدھم ہو کر مِٹا سلگتی تیز ہوا …

چمن میں رنگِ بہار اُترا تو میں نے دیکھا (منیر نیازی)

چمن میں رنگِ بہار اُترا تو میں نے دیکھا نظر سے دل کا غبار اُترا تو میں نے دیکھا میں نیم شب آسماں کی وسعت کو دیکھتا تھا زمیں پہ وہ حسن زار اُترا  تو میں نے دیکھا گلی کے باہر تمام منظر بدل گئے تھے جو سایئہ کوۓ یار اُترا تو میں نے دیکھا …

آس پاس کوئی گاؤں نہ دریا اور بدریا چھائی ہے (منیر نیازی)

راستے کی تھکن آس پاس کوئی گاؤں نہ دریا اور بدریا چھائی ہے شام بھی جیسے کسی پرانے سوگ میں ڈوبی آئی ہے پل پل بجلی چمک رہی ہے اور میلوں تنہائی ہے کتنے جتن کیے ملنے کو پھر بھی کتنی دوری ہے چلتے چلتے ہار گیا ہوں پھر بھی راہ ادھوری ہے گھائل ہے …

شراپ دے کے جا چکے ہیں سخت دل مہاتما (منیر نیازی)

 آتما کا روگ شراپ دے کے جا چکے ہیں سخت دل مہاتما سَمے کی قید میں بھٹک رہی ہے آتما کہیں سلونے شیام ہیں نہ گوپیوں کا پھاگ ہے نہ پائلوں کا شور ہے نہ بانسری کا راگ ہے بس اک اکیلی رادھیکا ہے اور دُکھ کی لاگ ہے ڈراؤنی صداؤں سے بھری ہیں رات …

یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں (منیر نیازی)

یہ کیسا نشہ ہے میں کس عجب خمار میں ہوں تو آ کے جا بھی چکا میں انتظار میں ہوں مکاں ہے قبر جسے لوگ خود بناتے ہیں میں اپنے گھر میں ہوں یا کسی مزار میں ہوں درِ فصیل کھلا یا پہاڑ سر سے ہٹا میں اب گری ہوئی گلیوں کے مرگ زار میں …

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں (منیر نیازی)

غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں تو نے مجھ کو کھو دیا میں نے تجھے کھویا نہیں نیند کا ہلکا گلابی سا خمار آنکھوں میں تھا یوں لگا جیسے وہ شب کو دیر تک سویا نہیں ہر طرف دیوار و در اور ان میں آنکھوں کے ہجوم کہہ سکے جو دل …

ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھا (داغ دہلوی)

ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھا حقیقت میں جو دیکھنا تھا نہ دیکھا تجھے دیکھ کر وہ دوئی اٹھ گئی ہے کہ اپنا بھی ثانی دیکھا نہ دیکھا ان آنکھوں کے قربان جاؤں جنہوں نے ہزاروں حجابوں میں پروانہ دیکھا نہ ہمت نہ قسمت نہ دل ہے نہ آنکھیں نہ ڈھونڈا نہ پایا …

اس قدر نازہے کیوں آپ کو یکتائی ک (داغ دہلوی)

اس قدر نازہے کیوں آپ کو یکتائی کا دوسرا نام ہے وہ بھی مری تنہائی کا کیا چھپے راز الٰہی دلِ شیدائی کا عرصئہ حشر تو بازار ہے رسوائی کا جان لے جائے گا آنا شبِ تنہائی کا کون اب روکنے والا ہے مری آئی کا خوگرِ رنج و بلا حشر کے دن کیا خوش …