ضبط سے نا آشنا ہم ، صبر سے بیگانہ ہم (سیماب اکبر آبادی)

ضبط سے نا آشنا ہم ، صبر سے بیگانہ ہم انجمن میں ہیں شریکِ قسمتِ پروانہ ہم خود ہی سازِ بے خودی کو چھیڑ دیتے ہیں کبھی خود ہی سنتے ہیں حدیثِ ساغر و پیمانہ ہم دفعتاً سازِ دو عالم بے صدا ہو جائے گا کہتے کہتے رُک گئے جس دن تِرا افسانہ ہم وحدت …

نامہ گیا کوئی ، نہ کوئی نامہ بر گیا (سیماب اکبر آبادی)

نامہ گیا کوئی ، نہ کوئی نامہ بر گیا تیری خبر نہ آئی زمانہ گزر گیا جنت بھی خوب بھر گئی ، دوزخ بھی بھر گیا جوشِ جنوں بتائے مجھے میں کدھر گیا ہنستا ہوں یوں کہ ہجر کی راتیں گزر گئیں روتا ہوں یوں کہ لطفِ دعائے سحر گیا اب مجھ کو ہے قرار …

نسیمِ صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی (سیماب اکبر آبادی)

نسیمِ صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہو گی تمہیں دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوں نظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہو گی مزہ آ جائے گا محشر میں کچھ سننے سنانے کا زباں ہو گی ہماری اور کہانی آپ …

سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری (سیماب اکبر آبادی)

سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری نہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزری ملیں تو فائزانِ منزلِ مقصود سے پوچھوں گزرگاہِ محبت سے گزر جانے پہ کیا گزری کسی کو میرے کاشانے سے ہمدردی نہیں شاید ہر اک یہ پوچھتا ہے میرے کاشانے پہ کیا گزری …

ستم ہو جائے تمہیدِ کرم ایسا بھی ہوتا ہے (حسرت موہانی)

ستم ہو جائے تمہیدِ کرم ایسا بھی ہوتا ہے محبت میں بتا اے ضبطِ غم ایسا بھی ہوتا ہے جلا دیتی ہیں سب رنج و الم حیرانیاں میری تِرے تمکینِ بے حد کی قسم ایسا بھی ہوتا ہے جفائے یار کے شکوے نہ کر اے رنجِ ناکامی امید و یاس دونوں ہوں بہم ایسا بھی …

لایا ہے دل پر کتنی خرابی (حسرت موہانی)

لایا ہے دل پر کتنی خرابی اے یار تیرا حسنِ شرابی پیراہن اس کا ہے سادہ رنگیں یا عکسِ مے سے شیشہ گلابی پھرتی ہے اب تک دل کی نظر میں کیفیت ان کی وہ نیم شرابی وہ روئے زیبا ہے جانِ خوبی ہیں وصف جس کے سارے کتابی اس قیدِ غم پر قربان حسرت …

جہاں تک ہو بسر کر زندگی عالی خیالوں میں (شاد عظیم آبادی)

جہاں تک ہو بسر کر زندگی عالی خیالوں میں بنا دیتا ہے کامل بیٹھنا صاحبِ حالوں میں جو آنکھیں ہوں تو چشمِ غور سے اوراقِ  گل دیکھو کسی کے حُسن کی شرحیں لکھی ہیں ان رسالوں میں مِری آنکھون سے دیکھو حسنِ صورت کے علاوہ بھی بہت سی خوبیاں ہیں اور بھی صاحبِ جمالوں میں …

نہ سر میں سودا نہ دل میں آہیں (شاد عظیم آبادی)

نہ سر میں سودا نہ دل میں آہیں نہ لب پہ ساقی فغاں رہے گی یہی جو ساماں ہیں یہ نہ ہوں گے تو پھر محبت کہاں رہے گی بنا چلا ڈھیر راکھ کا تو بجھا چلا اپنے دل کو لیکن بہت دنوں تک دبی دبائی یہ آگ اے کارواں رہے گی بہت سے تنکے …

اگر مرتے ہوئے لب پہ نہ تیرا نام آئے گا (شاد عظیم آبادی)

اگر مرتے ہوئے لب پہ نہ تیرا نام آئے گا تو میں مرنے سے درگزرا مِرے کس کام آئے گا عطا کی جب کہ خود پیرِ مغاں نے  پی بھی لے زاہد یہ کیسا سوچنا ہے تجھ پہ کیوں الزام آئے گا شبِ ہجراں کی سختی ہو تو ہو لیکن یہ کیا کم ہے کہ …

کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا (شاد عظیم آبادی)

کچھ کہے جاتا تھا غرق اپنے ہی افسانے میں تھا مرتے مرتے ہوش باقی تیرے دیوانے میں تھا دیکھتا تھا جس طرف اپنا ہی جلوہ تھا عیاں میں نہ تھا وحشی کوئی اِس آئنہ خانے میں تھا بوریا تھا ، کچھ شبینہ مے تھی یا توٹے سبو اور کیا تھا اس کے سوا مستوں کے …