شاعرِ فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں (جگر مراد آبادی)

شاعرِ فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں رُوح بن کر ذرے ذرے میں سما جاتا ہوں میں آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں جس قدر افسانئہ ہستی کو دہراتا ہوں میں اور بھی بیگانئہ ہستی ہوا جاتا …

اب نہیں لوٹ کے آنے والا (اختر نظمی)

اب نہیں لوٹ کے آنے والا گھر کھلا چھوڑ کے جانے والا ہو گئیں کچھ اِدھر ایسی باتیں رُک گیا روز کا آنے والا عکس آنکھوں سے چرا لیتا ہے اک تصویر بنانے والا لاکھ ہونٹوں ہی ہنسی ہو لیکن خوش نہیں خوش نظر آنے والا زد میں طوفاں کی آیا کیسے پیاس ساحل سے …

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا ایا (ساحر لدھیانوی)

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا ایا بات نکلی تو ہر اک بات  پہ رونا آیا ہم تو سمجھے تھے کہ ہم بھول گئے ہیں ان کو کیا ہوا اج کس بات پہ رونا آیا کس لیے جیتے ہیں ہم کس کے لیے جیتے ہیں بارہا ایسے سوالات پہ رونا آیا کون روتا ہے …

یہ کس ادا سے کرشمے دکھائے جاتے ہیں (سیماب اکبر آبادی)

یہ کس ادا سے کرشمے دکھائے جاتے ہیں ادا شناس بھی دھوکے میں آئے جاتے ہیں جو عمر تیری طلب میں گنوائے جاتے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں بنا کے دل مری مٹی سے لائے جاتے ہیں انہیں ستم کے سلیقے سکھائے جاتے ہیں جنہیں سپرد ہے گلگشتِ حسن کی …

رہ و رسم آشنا ہوں ، سعی میری رائیگاں کیوں ہو (سیماب اکبر آبادی)

رہ و رسم آشنا ہوں ، سعی میری رائیگاں کیوں ہو جو منزل سے بھٹک جائے وہ میرا کارواں کیوں ہوں مِلو تو ہر جگہ ، یعنی تعین کی حدیں توڑو نہیں ہے جب مکاں کی قید ، قیدِ لا مکاں کیوں ہو جبیں ہم جس جگہ رکھ دیں گے اک کعبہ بنا لیں گے …

کیوں ہنسی تو اے اجل ! فانی اگر سمجھا مجھے (سیماب اکبر ابادی)

کیوں ہنسی تو اے اجل ! فانی اگر سمجھا مجھے ایک دن سب کو فنا ہے ، کیا تجھے اور کیا مجھے غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا ایک دل دے کے خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے ہے حصولِ آرزو کا راز ، ترکِ آرزو میں نے دُنیا چھوڑ دی تو مِل …

چمک جگنو کی برقِ بے اماں معلوم ہوتی ہے (سیماب اکبر آبادی)

چمک جگنو کی برقِ بے اماں معلوم ہوتی ہے قفس میں رہ کے قدرِ آشیاں معلوم ہوتی ہے کہانی میری رُودادِ جہاں معلوم ہوتی ہے جو سنتا ہے اُسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے ہوائے شوق کی قوت وہاں لے آئی ہے مجھ کو جہاں منزل بھی گردِ کارواں معلوم ہوتی ہے ترقی پر ہے …

طولِ رہِ حیات سے گھبرا رہا ہُوں میں (سیماب اکبر آبادی)

طولِ رہِ حیات سے گھبرا رہا ہُوں میں گھبرا رہا ہوں اور چلا جا رہا ہوں میں چھوتی نہیں ہے مجھے پرِ جبریل کی ہوا یہ کن بلندیوں پہ اڑا جا رہا ہوں میں پھر دے رہا ہوں فطرتِ انساں کو درسِ ناز سر آستانِ حسن سے اٹھوارہا ہوں میں کیوں میرے ترکِ بادہ پہ …

جتنے ستم کیے تھے کسی نے عتاب میں (سیماب اکبر آبادی)

جتنے ستم کیے تھے کسی نے عتاب میں وہ بھی ملا لیے کرمِ بے حساب میں حسرت کو گھر کہیں نہ ملا اضطراب میں لُٹنے کو آگئی دلِ خانہ خراب میں اُٹھا ہے ابرِ مے کدہ دستِ دعا کے ساتھ اتنی برس پڑی کہ نہالوں شراب میں آ اے گلِ فسردہ ! لگا لوں تجھے …

دل کی بساط کیا تھی نگاہِ جمال میں (سیماب اکبر آبادی)

دل کی بساط کیا تھی نگاہِ جمال میں اک آئنہ تھا ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں آزردہ اس قدر ہوں سرابِ خیال سے جی چاہتا ہے تم بھی نہ آؤ خیال میں تنگ آ کے توڑتا ہوں طلسمِ خیال کو یا مطمئن کرو کہ تمہی ہو خیال میں دنیا ہے خواب ، حاصلِ دنیا خیال …