جی جائے پر جفا میں ہمارا زیاں نہیں (مصطفیٰ خان شیفتہ)

جی جائے پر جفا میں ہمارا زیاں نہیں قدرِ وفا نہیں ہے اگر امتحاں نہیں دل کا گِلہ، فلک کی شکایت یہاں نہیں وہ مہرباں نہیں تو کوئی مہرباں نہیں ہم آئے ہیں جہاں سے وہیں کا خیال ہے جز شاخِ سدرہ ہم کو سرِ اشیاں نہیں اک حالِ خوش میں بھول گئے کائنات کو …

مانا سحر کو یار اُسے جلوہ گر کریں (مصطفیٰ خان شیفتہ)

مانا سحر کو یار اُسے جلوہ گر کریں طاقت ہمیں کہاں کہ شبِ غم بسر کریں آئے تو ان کو رنج، نہ آئے تو مجھ کو رنج مرنے کی میرے کاش نہ ان کو خبر کریں وہ دوست ہیں انہیں جو اثر ہو گیا تو کیا نالے ہیں وہ جو غیر کے دل میں اثر …

جب سے عطا ہوا ہمیں خلعت حیات کا (مصطفیٰ خان شیفتہ)

جب سے عطا ہوا ہمیں خلعت حیات کا کچھ اور رنگ ڈھنگ ہوا کائنات کا شیشہ اتار شکوے کو بالائے طاق رکھ کیا اعتبار زندئی بے ثبات کا گر تیرے تشنہ کام کو دے خضر مرتے دم پانی ہو خشک چشمئہ آبِ حیات کا واعظ جنوں زدوں سے نہیں باز پرسِ حشر بس آپ فکر …

اپنے جوار میں ہمیں مسکن بنا دیا (مصطفیٰ خان شیفتہ)

اپنے جوار میں ہمیں مسکن بنا دیا دشمن کو اور دوست نے دشمن بنا دیا صحرا بنا رہا ہے وہ افسوں شہر کو صحرا کو جس کے جلوے نے گلشن بنا دیا تم لوگ بھی غضب ہو کہ دل پر یہ اختیار شب موم کر لیا سحر آہن بنا دیا مشاطہ کا قصور سہی سب …

شوخی نے تیری لطف نہ رکھا حجاب میں (مصطفیٰ خان شیفتہ)

شوخی نے تیری لطف نہ رکھا حجاب میں جلوے نے تیرے آگ لگائی نقاب میں وہ قطرہ ہوں کہ موجئہ دریا میں گم ہوا وہ سایہ ہوں کہ محو ہوا آفتاب میں سالک کی یہ مُراد کہ مجھ سے ہو نفس بھی رہزن کو یہ خیال کہ رہرو ہو خواب میں جور و ستم عیاں …

لفظ کیوں شرماتے ہیں (آشفتہ چنگیزی)

لفظ کیوں شرماتے ہیں وعدے آخر وعدے ہیں لکھا لکھایا دھو ڈالا سارے ورق پھر سادے ہیں تجھ کو بھی کیوں یاد رکھا سوچ کے اب پچھتاتے ہیں ریت محل دو چار بچے یہ بھی گرنے والے ہیں جائیں کہیں بھی تجھ کو کیا  شہر سے تیرے جاتے ہیں گھر کے اندر جانے کے اور …

پچھلی مسافتوں کے نشاں دیکھتے چلیں (آشفتہ چنگیزی)

پچھلی مسافتوں کے نشاں دیکھتے چلیں روشن ہے بزمِ شعلہ رخاں دیکھتے چلیں رستے میں ایک گھر ہے جہاں منتظر ہیں لوگ آئیں گے بار بار کہاں دیکھتے چلیں موسم کئی طرح کے گزارے ہیں دوستو اب کے ہے کیا مزاجِ خزاں دیکھتے چلیں یہ کون سی جگہ ہے جہاں آس پاس بھی آہٹ کوئی، …

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ (اعتبار ساجد)

چھوٹے چھوٹے کئی بے فیض مفادات کے ساتھ لوگ زندہ ہیں عجب صورتِ حال کے ساتھ فیصلہ یہ تو بہرحال تجھے کرنا ہے ذہن کے ساتھ سلگنا ہے یا جذبات کے ساتھ گفتگو دیر سے جاری ہے نتیجے کے بغیر اک نئی بات نکل آتی ہے ہر بات کے ساتھ اب کے یہ سوچ کے …

وہ جو دعویدار ہے شہر میں کہ سبھی کا نبض شناس ہوں (اعتبار ساجد)

وہ جو دعویدار ہے شہر میں کہ سبھی کا نبض شناس ہوں کبھی آکے مجھ سے تو پوچھتا کہ میں کس کے غم میں اداس ہوں یہ مری کتابِ حیات ہے اسے دل کی آنکھ سے پڑھ ذرا میں ورق ورق ترے سامنے ترے روبرو ترے پاس ہوں یہ تری امید کو کیا ہوا کبھی …

مری راتوں کی راحت دن کا اطمینان لے جانا (اعتبار ساجد)

مری راتوں کی راحت دن کا اطمینان لے جانا تمہارے کام آ جائے گا، یہ سامان لے جانا تمہارے بعد کیا رکھنا انا سے واسطہ کوئی تم اپنے ساتھ میرا عمر بھر کا مان لے جانا شکستہ سے کچھ ریزے پڑے ہیں فرش پر، چن لو اگر تم جوڑ سکتے ہو تو یہ گلدان لے …