آپ سے عرضِ ملاقات نئی بات نہیں (سیف الدین سیف)
آپ سے عرضِ ملاقات نئی بات نہیں ہے مِرے لب پہ وہی بات نئی بات نہیں دلِ بے تاب یہ ہلچل یہ قیامت کیسی آج کچھ ان سے ملاقات نئی بات نہیں آپ آجائیں تو رِم جھِم کی صدا ناچ اٹھے ورنہ یہ رات یہ برسات نئی بات نہیں ہے یہی فرقئہ اربابِ وفا کا …