کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں (داغ دہلوی)
کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں اگر نہ آگ لگادوں، تو داغ نام نہیں وفورِ یاس نے یاں کام ہے تمام کیا زبانِ یار سے نکلی تھی ناتمام نہیں وہ کاش وصل کے انکار پر ہی قائم ہوں مگر انہیں تو کسی بات پر قیام نہیں سنائی جاتی ہیں درپردہ گالیاں مجھ …