ہر موسم کا سپنا (امجد اسلام امجد)

ہر موسم کا سپنا

 

موسم موسم آنکھوں کو اِک سپنا یاد رہا

صدیاں جس میں سمٹ گئیں وہ لمحہ یاد رہا

قوسِ قزح کے رنگ تھے ساتوں اُس کے لہجے میں

ساری محفل بھول گئی، وہ چہرہ یاد رہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *