یوں حسرتوں کے داغ , محبت میں دھو لیے (راجندر کرشن)
یوں حسرتوں کے داغ , محبت میں دھو لیے خود دل سے دل کی بات کہی , اور رو لیے گھر سے چلے تھے ، ھم تو خوشی کی تلاش میں غم راہ میں کھڑے تھے , وھی ساتھ ھو لیے مُرجھا چکا ھے , پھر بھی یہ دِل پُھول ھی تو ھے اب آپ …