Category «شاعری»

یہ اخلاصِ گراں مایا بہت ہے(ساحر ہوشیار پوری)

یہ اخلاصِ گراں مایا بہت ہے تم آئے، دل کو چین آیا بہت ہے غمِ دل کو بہت راس آئے ہیں ہم غمِ دل ہم کو راس آیا بہت ہے فریبِ دشمناں ہم کھائیں گے کیا فریبِ دوستاں کھایا بہت ہے مبارک تم کو قصر و چترِ شاہی ہمیں دیوار کا سایا بہت ہے بہت …

میاں میں شیر ہوں شیروں کی غراہٹ نہیں جاتی (منور رانا)

میاں میں شیر ہوں شیروں کی غراہٹ نہیں جاتی میں لہجہ نرم بھی کر لوں تو جھنجھلاہٹ نہیں جاتی میں اک دن بے خیالی میں کہیں سچ بول بیٹھا تھا میں کوشش کر چکا ہوں منہ کی کڑواہٹ نہیں جاتی جہاں میں ہوں وہیں آواز دینا جرم ٹھہرا ہے جہاں وہ ہے وہاں تک پاؤں …

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے (حفیظ ہوشیارپوری)

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں اکثر  سوچتا ہوں پھول کب تک شریکِ گریئہ شبنم نہ ہوں گے دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم یہ غم ہو گا تو کتنے …

رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں (لالہ مادھو رام جوہر)

رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں شام اودھ کی تو بنارس کی سحر رکھتے ہیں بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں ڈھونڈھ لیتا میں اگر اور کسی جا ہوتے کیا کہوں آپ دل غیر میں گھر رکھتے ہیں اشک قابو میں نہیں …

کوئی سوال نہ کر اور کوئی جواب نہ پوچھ (خوشبیر سنگھ شاد)

کوئی سوال نہ کر اور کوئی جواب نہ پوچھ تو مجھ سے عہد گذشتہ کا اب حساب نہ پوچھ سفینے کتنے ہوئے اس میں غرق آب نہ پوچھ تو میرے دل کے سمندر کا اضطراب نہ پوچھ میں کب سے نیند کا مارا ہوا ہوں اور کب سے یہ میری جاگتی آنکھیں ہیں محو خواب …

غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیں (بھارتیندو ہریش چندر سا)

غضب ہے سرمہ دے کر آج وہ باہر نکلتے ہیں ابھی سے کچھ دل مضطر پر اپنے تیر چلتے ہیں ذرا دیکھو تو اے اہل سخن زور صناعت کو نئی بندش ہے مجنوں نور کے سانچے میں ڈھلتے ہیں برا ہو عشق کا یہ حال ہے اب تیری فرقت میں کہ چشم خونچکاں سے لخت …

شباب آیا کسی بُت پر فِدا ہونے کا وقت آیا (پنڈت ہری چند اختر)

شباب آیا کسی بُت پر فِدا ہونے کا وقت آیا مِری دُنیا میں بندے کے خُدا ہونے کا وقت آیا اُنھیں دیکھا تو زاہد نے کہا ایمان کی یہ ہے کہ اب انسان کو سجدہ رَوا ہونے کا وقت آیا تکلّم کی خموشی کہہ رہی ہے حرفِ مطلب سے کہ اشک آمیز نظروں سے ادا …

حسن جو رنگ خزاں میں ہے وہ پہچان گیا (صبا اکبر آبادی)

حسن جو رنگ خزاں میں ہے وہ پہچان گیا فصل گل جا مرے دل سے ترا ارمان گیا تو خداوند محبت ہے میں پہچان گیا دل سا ضدی تری نظروں کا کہا مان گیا آئنہ خانہ سے ہوتا ہوا حیران گیا خود فراموش ہوا جو تمہیں پہچان گیا اب تو مے خانۂ الفت میں چلا …

چشم و ادا و غمزہ، شوخی و ناز، پانچوں (انشااللہ خاں انشا)

چشم و ادا و غمزہ، شوخی و ناز، پانچوں دُشمن ہیں میرے جی کے، بندہ نواز! پانچوں کیا رنگِ زرد و گریہ ، کیا ضعف و درد و افغاں افشا کریں ہیں مِل کر میرا یہ راز، پانچوں نارِ فراق سے ہے، جوں شمع، دِل کو ہر شب احراق و داغ و گریہ ، سوز …