ہر چوٹ پہ پوچھے ہے بتا یاد رہے گی (کلیم عاجز)
ہر چوٹ پہ پوچھے ہے بتا یاد رہے گی ہم کو یہ زمانے کی ادا یاد رہے گی دن رات کے آنسو، سحر وشام کی آہیں اس باغ کی یہ آب و ہوا یاد رہے گی کس دھوم سے بڑھتی ہوئی پہنچی ہے کہاں تک دنیا کو تری زلفِ رسا یاد رہے گی کرتے رہیں …