Category «ساحر لدھیانوی»
تنگ آچکے ہیں کشمکشِ زندگی سے ہم (ساحر لدھیانوی)
جرمِ الفت پہ ہمیں لوگ سزا دیتے ہیں (ساحر لدھیانوی)
جرمِ الفت پہ ہمیں لوگ سزا دیتے ہیں کیسے نادان ہیں شعلوں کو ہوا دیتے ہیں ہم سے دیوانے کہیں ترکِ وفا کرتے ہیں جان جائے کہ رہے بات نبھا دیتے ہیں آپ دولت کی ترازو میں دلوں کو تولیں ہم محبت سے محبت کا صلہ دیتے ہیں تخت کیا چیز …
بہت گھٹن ہے کوئی صورتِ بیاں نکلے (ساحر لدھیانوی)
بہت گھٹن ہے کوئی صورتِ بیاں نکلے اگر صدا نہ اُٹھے کم سے کم فغاں نکلے فقیرِ شہر کے تن پر لباس باقی ہے امیرِ شہر کے ارماں ابھی کہاں نکلے حقیقتیں ہیں سلامت تو خواب بہتیرے ملال کیا ہے کہ کچھ خواب رائیگاں نکلے اِدھر بھی خاک اُڑی اُدھر بھی خاک اُڑی جدھر جدھر سے …