ظلم تو یہ ہے کہ شاکی مرے کردار کا ہے (ظہور نظر)

ظلم تو یہ ہے کہ شاکی مرے کردار کا ہے یہ گھنا شہر کہ جنگل در و دیوار کا ہے رنگ پھر آج دگر برگ دل زار کا ہے شائبہ مجھ کو ہوا پر تری رفتار کا ہے اس پہ تہمت نہ دھرے میرے جنوں کی کوئی مجھ پہ تو سایہ مرے اپنے ہی اسرار …

خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی (ظہور نظر)

خود کو پانے کی طلب میں آرزو اس کی بھی تھی میں جو مل جاتا تو اس میں آبرو اس کی بھی تھی زندگی اک دوسرے کو ڈھونڈنے میں کٹ گئی جستجو میری بھی دشمن تھی عدو اس کی بھی تھی میری باتوں میں بھی تلخی تھی سم تنہائی کی زہر تنہائی میں ڈوبی گفتگو …

پیڑ کے کٹنے سے آنگن تو کشادە ہوگیا ( رانا سعید دوشی)

پیڑ کے کٹنے سے آنگن تو کشادە ہوگیا دکھ پرندوں کا مگر حد سے زیادە ہو گیا کھچ گئی دیوار، گھر بھی آدھا آدھا ہو گیا درمیاں جیسے ہمالہ ایستادە ہو گیا اے ٹپکتی چھت! میں تجھ پر اور مٹی ڈالتا پر ترا شہتیر ہی بھُر کر برادە ہوگیا اس برس عریانیت پر احتجاج ایسے …

پہلو سے جب وہ لے گئے دل کو نکال کے (محمد برکت اللہ رضا)

پہلو سے جب وہ لے گئے دل کو نکال کے اُف کرکے رہ گیا میں کلیجہ سنبھال کے کرتے ہیں یاد ہجر میں ہم دن وصال کے پیری میں تذکرے ہیں جوانی کے حال کے جانا اودھر کو طائرِ دل دیکھ بھال کے خلقے نہیں ہیں زلف کے پھندے میں جال کے چل جائیں آپ …

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں (حیرت الٰہ آبادی)

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں آ جائیں رعب غیر میں ہم وہ بشر نہیں کچھ آپ کی طرح ہمیں لوگوں کا ڈر نہیں اک تو شب فراق کے صدمے ہیں جاں گداز اندھیر اس پہ یہ ہے کہ ہوتی سحر نہیں کیا کہئے اس …

یاد کرنے پہ نہ یاد آئیں زمانے ہو جائیں (سلیم کوثر)

یاد کرنے پہ نہ یاد آئیں زمانے ہو جائیں وہ نئے حرف نہ لکھو جو پرانے ہو جائیں ہم سخاوت ہی پہ آمادہ نہیں ہیں، ورنہ دل ہمارے بھی محبت کے خزانے ہو جائیں کون پرچھائیوں کے عکس کو پہچانے گا گھر اگر گھر نہ رہیں، آئینہ خانے ہو جائیں زندگی ایسا بیاباں ہے کہ …

وقت ہی کم تھا فیصلے کے لئے (ضیا مذکور)

وقت ہی کم تھا فیصلے کے لئے ورنہ میں آتا مشورے کے لئے تم کو اچھے لگے تو تم رکھ لو پھول توڑے تھے بیچنے کے لئے گھنٹوں خاموش رہنا پڑتا ہے آپ کے ساتھ بولنے کے لئے سیکڑوں کنڈیاں لگا رہا ہوں چند بٹنوں کو کھولنے کے لئے ایک دیوار باغ سے پہلے اک …

ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیں (مبشر سعید)

ہم اگر تیرے خدوخال بنانے لگ جائیں صرف آنکھوں پہ کئی ایک زمانے لگ جائیں میں اگر پھول کی پتی پہ ترا نام لکھوں تتلیاں اُڑ کے ترے نام پہ آنے لگ جائیں تو اگر ایک جھلک اپنی دکھا دے اُن کو سب مصور تری تصویر بنانے لگ جائیں ایک لمحے کو اگر تیرا تبسم …

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے (حفیظ ہوشیار پوری)

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں اکثر  سوچتا ہوں پھول کب تک شریکِ گریئہ شبنم نہ ہوں گے دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم یہ غم ہو گا تو کتنے …

قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں (اختر ملک)

قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں سارے جھگڑے اَنا کے ہوتے ہیں بات نیت کی ہے صرف ورنہ وقت سارے دعا کے ہوتے ہیں بھول جاتے ہیں ، مت برا کہنے لوگ پُتلے خطا کے ہوتے ہیں وہ جو بظاہر کچھ نہیں لگتے ان سے رشتے بلا کے ہوتے ہیں وہ ہمارا ہے اسطرح …