عرضِ اُلفت پہ وہ خفا بھی ہُوئے (شفیق خلش)
عرضِ اُلفت پہ وہ خفا بھی ہُوئے ہم پہ اِس جُرم کی سزا بھی ہُوئے زندگی تھی ہماری جن کے طُفیل وہ ہی خفگی سے پھر قضا بھی ہُوئے بے سبب کب ہیں میرے رنج و مَحِن دوست، دُشمن کے ہمنوا بھی ہُوئے کیا اُمید اُن سے کچھ بدلنے کی ظلم اپنے جنھیں رَوا بھی …