مجھے شکوہ نہیں، برباد رکھ، برباد رہنے دے (بیدم وارثی)

مجھے شکوہ نہیں، برباد رکھ، برباد رہنے دے مگر لِلّہ میرے دل میں اپنی یاد رہنے دے مرے ناشاد رہنے سے اگر تجھ کو مسرّت ہے تو میں ناشاد ہی اچھّا، مجھے ناشاد رہنے دے تری شان ِ تغافل پر میری بربادیاں صدقے جو برباد ِ تمنا ہو ، اسے برباد رہنے دے نہ صحرا …

فاصلے نہ بڑھ جائیں فاصلے گھٹانے سے (نصرت صدیقی)

فاصلے نہ بڑھ جائیں فاصلے گھٹانے سے آؤ سوچ لیں پہلے رابطے بڑھانے سے عرش کانپ جاتا تھا ایک دل دُکھانے سے وہ زمانہ اچھا تھا آج کے زمانے سے خواہشیں نہیں مرتیں خواہشیں دبانے سے امن ہو نہیں سکتا گولیاں چلانے سے دیکھ بھال کر چلنا لازمی سہی لیکن تجربے نہیں ہوتے ٹھوکریں نہ …

دل کرے گا نہ خیالِ رُخِ جاناں خالی (آباد لکھنوی)

دل کرے گا نہ خیالِ رُخِ جاناں خالی کبھی اس گھر کو نہ چھوڑے گا یہ مہماں خالی روز و شب لاکھوں ہی ارماں بھرے رہتے ہیں حسرتوں سے نہیں ہوتا دلِ ناداں خالی باغ میں دیکھ کے ترے رُخِ رنگیں کی بہار ہوگئے رنگ سے گلہائے گلستاں خالی وصل کو روز میسر نہیں ہوتا …

آنسوؤں کے طوفاں میں بجلیاں دبی رکھنا (اختر مسلمی)

آنسوؤں کے طوفاں میں بجلیاں دبی رکھنا سرد سرد آہوں میں گرمیاں دبی رکھنا کیفیت غمِ دل کی عیاں نہ ہو چہرے سے پردۃ تبسم میں تلخیاں دبی رکھنا کون سننے والا ہے بے حسوں کی دنیا میں اپنے غم کی سینے میں داستاں دبی رکھنا کس قدر انوکھا ہے شیوہ اہلِ دنیا کا میٹھی …

ضبط غم سے سوا ملال ہوا (منیش شکلا)

ضبط غم سے سوا ملال ہوا  اشک آئے تو جی بحال ہوا پھر سے بجھنے لگی ہے بینائی  پھر تری دید کا سوال ہوا اک ذرا چاند کے ابھرنے سے  دیکھ سورج کا رنگ لال ہوا کتنے لوگوں سے ملنا جلنا تھا  خود سے ملنا بھی اب محال ہوا ہم نے ماضی کا ہر ورق …

صُوفیوں میں ہُوں نہ رِندوں میں نہ (بہادر شاہ ظفر)

صُوفیوں میں ہُوں نہ رِندوں میں نہ مَیخواروں میں ہُوں اے بُتو بنـــــــــــدہ خُــــــــــدا کا ہُوں گُناہگاروں میں ہُوں میری ملت ہے محبت میرا مذہب عشق ہے خواہ ہُوں مَیں کافروں میں خواہ میں دینداروں میں ہوں صُورتِ تصــــــــــویرِ مَیکش مَے کَــــــــــــــدہ میں دہر کے کُچھ نہ مَدہوشوں میں مَیں ہُوں اور نہ ہُشیاروں میں …

آہنی ، سبز رنگ ، جنگلے کے پاس (مجید امجد)

ریلوے سٹیشن پر آہنی ، سبز رنگ ، جنگلے کے پاس باتوں باتوں میں ایک برگِ عقیق تو نے جب توڑ کر مسل ڈالا مجھے احساس بھی نہ تھا کہ یہی جاوداں لمحہ ، شاخِ دوراں سے جھڑ کے ، اک عمر ، میری دنیا پر اپنی کملاہٹیں بکھیرے گا اسی برگِ دریدہ جاں کی …

رُخ پہ گیسو جو بکھر جائیں گے (بسمل عظیم آبادی)

رُخ پہ گیسو جو بکھر جائیں گے ہم اَندھیرے میں کدھر جائیں گے اپنے شانے پہ نہ زلفیں چھوڑو دل کے شیرازے بکھر جائیں گے یاد آیا نہ اگر وعدے پر ہم تو بے مَوت کے مر جائیں گے اپنے ہاتھوں سے پلا دے ساقی رند اک گھونٹ میں تر جائیں گے قافلے وقت کے …

دوست کیا خوب وفاؤں کا صلہ دیتے ہیں (تابش دہلوی)

دوست کیا خوب وفاؤں کا صلہ دیتے ہیں ہر نئے موڑ پر ایک زخم نیا دیتے ہیں تم سے تو خیر گھڑی بھر کی ملاقات رہی لوگ صدیوں کی رفاقت کو بھلا دیتے ہیں کیسے ممکن ہے کہ دھواں بھی نہ ہو اور دل بھی جلے چوٹ پڑتی ہے تو پتھر بھی صدا دیتے ہیں …

درخت جاں پر عذاب رت تھی (اعزاز احمد آذر)

درخت جاں پر عذاب رت تھی نہ برگ جاگے نہ پھول آئے بہار وادی سے جتنے پنچھی ادھر کو آئے ملول آئے نشاطِ منزل نہیں تو ان کو کوئی سا اجرِ سفر ہی دے دو وہ رہ نوردِ رہ جنوں جو پہن کے راہوں کی دھول آئے وہ ساری خوشیاں جو اس نے چاہیں اٹھا …