ہمارے عندلیبِ گلشنِ ناآفریدہ کو (افتخار عارف)
غالب کے دو مصرعے ہمارے عندلیبِ گلشنِ ناآفریدہ کو نوائے طائرانِ آشیاں گم کردہ آتی تھی مگر ہم کو نہیں آتی ہمیں آتا بھی کیا ہے خبر کے اُس طرف کیا ہے کبھی اُس پر نظر رکھنے کا فن ہم کو نہیں آیا نظر کے زاویے کس طرح سے ترتیب پاتے ہیں کہاں اور کس …