رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں (لالہ مدھو رام جوہر)

رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیںشام اودھ کی تو بنارس کی سحر رکھتے ہیں بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیاتاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں ڈھونڈھ لیتا میں اگر اور کسی جا ہوتےکیا کہوں آپ دل غیر میں گھر رکھتے ہیں اشک قابو میں نہیں راز چھپاؤں کیوں …

ہے طرفہ قیامت جو ہم دیکھتے ہیں (جون ایلیا)

ہے طرفہ قیامت جو ہم دیکھتے ہیںترے رخ پہ آثارِ غم دیکھتے ہیں غضب ہے نشیب و فرازِ زمانہنہ تم دیکھتے ہو، نہ ہم دیکھتے ہیں تمنا ہے اب ہم کو بے حرمتی کیسبھی کو یہاں محترم دیکھتے ہیں چلو بے کمند و کماں آج چل کرغزالوں کا اندازِ رَم دیکھتے ہیں یہی تو محبت …

یہ اور بات ہے تجھ سے گلا نہیں کرتے (امجد اسلام امجد)

یہ اور بات ہے تجھ سے گلا نہیں کرتے جو زخم تو نے دیے ہیں بھرا نہیں کرتے ہزار جال لیے گھومتی پھرے دنیا ترے اسیر کسی کے ہوا نہیں کرتے یہ آئنوں کی طرح دیکھ بھال چاہتے ہیں کہ دل بھی ٹوٹیں تو پھر سے جڑا نہیں کرتے وفا کی آنچ سخن کا تپاک …

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا (اختر شیرانی)

کچھ تو تنہائی کی راتوں میں سہارا ہوتا تُم نہ ہوتے نہ سہی ‘ ذِکر تمہارا ہوتا ترکِ دنیا کا یہ دعویٰ ہے فُضول اے زاہد بارِ ہستی تو ذرا سر سے اُتارا ہوتا وہ اگر آ نہ سکے ‘ موت ہی آئی ہوتی ہجر میں کوئی تو غم خوار ہمارا ہوتا زندگی کتنی مسرت …

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے (حفیظ ہوشیار پوری)

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں اکثر  سوچتا ہوں پھول کب تک شریکِ گریئہ شبنم نہ ہوں گے دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم یہ غم ہو گا تو کتنے …

نظر حیران دل ویران، میرا جی نہیں لگتا (جون ایلیا)

نظر حیران دل ویران، میرا جی نہیں لگتا بچھڑ کے تم سے میری جان ! میرا جی نہیں لگتا کوئی بھی تو نہیں ہے جو،پُکارے راہ میں مجھ کو ہوں میں بے نام اک انسان،میرا جی نہیں لگتا جہاں ملتے تھے ہم تم اور جہاں مل کر بچھڑتے تھے نہ وہ دٓر ہے ،نہ وہ …

ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے (جون ایلیا)

ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے کس نے عذابِ جاں سہا، کون عذابِ جاں میں ہے لمحہ بہ لمحہ دم بہ دم آن بہ آن رم بہ رم میں بھی گزشتگاں میں ہوں تو بھی گزشتگاں میں ہے آدم و ذاتِ کبریا کرب میں ہیں جدا جدا کیا کہوں ان کا …

دل نے کیا ہے قصد سفر گھر سمیٹ لو (جون ایلیا)

دل نے کیا ہے قصد سفر گھر سمیٹ لو جانا ہے اس دیار سے منظر سمیٹ لو آزادگی میں شرط بھی ہے احتیاط کی پرواز کا ہے اذن مگر پر سمیٹ لو حملہ ہے چار سو در و دیوار شہر کا سب جنگلوں کو شہر کے اندر سمیٹ لو بکھرا ہوا ہوں صرصر شام فراق …

دل کی ہر بات دھیان میں گزری (جون ایلیا)

دل کی ہر بات دھیان میں گزری ساری ہستی گمان میں گزری ازل داستاں سے اس دم تک جو بھی گزری اک آن میں گزری جسم مدت تری عقوبت کی ایک اک لمحہ جان میں گزری زندگی کا تھا اپنا عیش مگر سب کی سب امتحان میں گزری ہائے وہ ناوک گزارش رنگ جس کی …