کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا (غلام محمد قاصر)

کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا اور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا تصویر نہیں بدلی شیشہ بھی نہیں بدلا نظریں بھی سلامت ہیں چہرہ  بھی نہیں بدلا ہے شوقِ سفر ایسا کہ اک عمر سے یاروں نے منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلا بے کار گیا بن میں سونا …

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے (ادا جعفری)

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے آئے تو سہی ، بر سرِ الزام ہی آئے حیران ہیں ،  لب بستہ ہیں ، دلگیر ہیں غنچے خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے لمحاتِ مسرت ہیں تصور سے گریزاں یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے تاروں سے سجا لیں …

چاک و دل بھی کبھی سلتے ہوں گے (ادا جعفری)

چاک و دل بھی کبھی سلتے ہوں گے لوگ بچھڑے ہوئے ملتے ہوں گے روز و شب کے انہی ویرانوں میں خواب کے پھول تو کھلتے ہوں گے ناز پروردہ تبسم سے کہیں سلسلے درد کے ملتے ہوں گے ہم بھی خوشبو ہیں ، صبا سے کہیو ہم نفس روز نہ ملتے ہوں گے صبح …

ہر شخص پریشاں  سا حیراں سا لگے ہے (ادا جعفری)

ہر شخص پریشاں  سا حیراں سا لگے ہے سائے کو بھی دیکھوں تو گریزاں سا لگے ہے کیا آس تھی دل کو کہ ابھی تک نہیں توٹی جھونکا بھی ہوا کا ہمیں مہماں سا لگے ہے خوشبو کا یہ انداز بہاروں میں نہیں تھا پردے میں صبا کے کوئی ارماں سا لگے ہے سونپی گئی …

وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں (اختر شیرانی)

وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں محبت کریں، خوش رہیں ، مسکرا دیں غرور اور ہمارا غرورِ محبت مہ و مہر کو ان کے در پر جھکادیں جوانی ہو گر جاودانی تو یا رب تری سادہ دنیا کو جنت بنا دیں شبِ وصل کی بے خودی چھا رہی ہے کہو تو ستاروں کی …

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے (اختر شیرانی)

کیا کہہ گئی کسی کی نظر کچھ نہ پوچھئے کیا کچھ ہوا ہے دل پہ اثر کچھ نہ پوچھئے جھکتی ہوئی نظر سے وہ اٹھتا ہوا سا عشق اف! وہ نظر وہ عشق مگر کچھ نہ پوچھئے وہ دیکنا کسی کا کنکھیوں سے بار بار وہ بار بار اس کا اثر کچھ نہ پوچھئے رو …

چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیا (احمد مشتاق)

چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیا دلِ مشتاق ٹھہر جا وہی منظر آیا میں بہت خوش تھا کڑی دھوپ کے سائے میں کیوں تری یاد کا بادل مرے سر پر آیا بجھ گئی رونقِ پروانہ تو محفل چمکی سو گئے اہلِ تمنا تو ستم گر آیا یار سب جمع ہوئے رات کی تاریکی …

بھٹک نہ جائیں کہیں رہروانِ راہِ وفا (احمد مشتاق)

بھٹک نہ جائیں کہیں رہروانِ راہِ وفا  کہ اس سفرمیں کوئی قافلہ نہیں ملتا لبوں پہ گیت نگاہوں میں روشنی کی جھلک مگر دلوں میں گھنے جنگلوں کا سناٹا سلگ رہی ہے دلوں میں کسی کے درد کی آگ یہ زرد چاند ، یہ پچھلے پہر کی نرم ہوا بہت دنوں سے ہے سنسان رہگزارِ …

ترے دیوانے ہر رنگ رہے ترے (احمد مشتاق)

ترے دیوانے ہر رنگ رہے ترے دھیان کی جوت جگائے ہوئے کبھی نتھرے ستھرے کپڑوں میں کبھی انگ بھبھوت رمائے ہوئے اس راہ سے چھپ چھپ کر گزری رُت سبز سنہرے پھولوں کی جس راہ پہ تم کبھی نکلے تھے گھبرائے ہوئے شرمائے ہوئے اب تک ہے وہی عالم دل کا وہی رنگِ شفق وہی …

یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی (اختر شیرانی)

یوں تو کس پھول سے رنگت نہ گئی بو نہ گئی اے محبت! مرے پہلو سے مگر تو نہ گئی مٹ چلے میری امیدوں کی طرح حرف مگر آج تک تیرے خطوں سے تری خوشبو نہ گئی فصلِ گل ختم ہوئی، رنگِ سمن خواب ہوا میری آنکھوں سے مگر میری سمن رو نہ گئی کب …