تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں (شاف عظیم آبادی)

تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں ہوں اس کوچہ کے ہر ذرہ سے آگاہ ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں دلِ مضطر سے پُوچھ اے رونقِ بزم میں خُود آیا نہیں لایا گیا ہوں لحد میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپائے بھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں کجا میں اور …

اسیرؐ جسم ہوں ، معیادِ قید لا معلوم (شاد عظیم آبادی)

اسیرؐ جسم ہوں ، معیادِ قید لا معلوم یہ کس گناہ کی پاداش ہے ، خدا معلوم تِری گلی بھی مجھے یوں تو کھینچتی ہے بہت دراصل ہے مِری مٹی کہاں کی ، کیا معلوم سفر ضرور ہے اور عذر کی مجال نہیں مزہ تو یہ ہے کہ منزل نہ راستہ معلوم سُنی حکایتِ ہستی …

نگہ کی برچھیاں جو سہہ سکے سینا اُسی کا ہے (شاد عظیم آبادی)

نگہ کی برچھیاں جو سہہ سکے سینا اُسی کا ہے ہمارا آپ کا جینا نہیں جینا اُسی کا ہے  مکدر یا مصفا جس کو یہ دونوں ہی یکساں ہوں حقیقت میں وہی مے خوار ہے ، پینا اُسی کا ہے یہ بزم ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی جو بڑھ کر خود اٹھا لے …

نگہباں ہیں کچھ ایسے ادا وناز ان کے (شاد عظیم آبادی)

نگہباں ہیں کچھ ایسے ادا وناز ان کے کہ بچتے جاتے ہیں لغزش سے پاکباز ان کے اجل کے غمزۃ بے جا سمائیں کیا دل میں تمام عمر اٹھائے ہوئے ہیں ناز ان کے تجھے کو نزع میں پوچھا تِرے خموشوں نے اخیر وقت جب آیا چھپے نہ راز ان کے نظر اٹھانے میں ہوتا …

وہ آنکھ اٹھا کے ذرا بھی جدھر کو دیکھتے ہیں (نظام رامپوری)

وہ آنکھ اٹھا کے ذرا بھی جدھر کو دیکھتے ہیں تو کیا ہی یاس سے ہم اُس نظر کو دیکھتے ہیں جو یہ حال ہے تو جائیں گے وہاں ہم آپ اک آدھ روز تو دردِ جگر کو دیکھتے ہیں یہ کہتے ہو اگر آنا ہوا تو آئیں گے ہم بھلا ہم آج تمہاری اگر …

پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی (آرزو لکھنوی)

پانی میں آگ دھیان سے تیرے بھڑک گئی آنسو میں کوندتی ہوئی بجلی چھلک گئی کب تک یہ جھوٹی آس کہ اب آئے وہ اب آئے پلکیں جھکیں ، پپوٹے تنے ، آنکھ تھک گئی ندی میں آنسوؤں نے بہا دی تو کیا ہوا کھولن جو تھی لہو میں نہ وہ آج تک گئی دونوں …

رونے پہ مِرے ہنستے کیا ہو بے سمجھے نہ دیوانہ جانو (آرزو لکھنوی)

رونے پہ مِرے ہنستے کیا ہو بے سمجھے نہ دیوانہ جانو دل کس سے لگایا ہے تم نے ، تم درد کسی کا کیا جانو رونے پہ کسی کے کوئی ہنسے ، ہنسنے پہ کسی کے روئے کوئی جو بات ہے جس کی وہ جانے ہم کیا سمجھیں تم کیا جانو کہنے سے نہ کہنا …

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو (آرزو لکھنوی)

بھولے بن کر حال نہ پوچھو بہتے ہیں اشک تو بہنے دو جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو رسمیں اس اندھیر نگری کی نئی نہیں پرانی ہیں مہر پہ ڈالو رات کا پردہ ماہ کو روشن رہنے دو روح نکل کر باغِ جہاں سے باغِ جناں میں جا پہنچے چہرے …

دل جن کا گیا ہے رنج انہیں ، جو پاگئے خوش ہوتے ہیں (آرزو لکھنوی)

دل جن کا گیا ہے رنج انہیں ، جو پاگئے خوش ہوتے ہیں یہ اپنی اپنی قسمت ہے وہ ہنستے ہیں ہم روتے ہیں ہو چاہے کسی کی بربادی چھوٹے گی نہ آرائش ان کی لڑیاں ہیں یہاں اشکوں کی بندھی بالوں میں وہ موتی پروتے ہیں اُلفت میں سلیقہ جو جس کا انجام بگڑنا …

آ گئی پیری جوانی ختم ہے (آرزو لکھنوی)

آ گئی پیری جوانی ختم ہے صبح ہوتی ہے کہانی ختم ہے حسرتوں کا دل سے قبضہ اٹھ گیا غاصبوں کی حکمرانی ختم ہے ہو گیا ذوقِ نظارہ خود فنا یا بہارِ بوستانی ختم ہے وقتِ بینش کیفِ خود بینی کہاں پیاس ہے موجود پانی ختم ہے بجھ گیا دل ہو گئی گونگی زباں اگلی …