اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو (منیر نیازی)

اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو غمِ جدائی میں یوں کیا نہ کرو خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لئے ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو کچھ نہ ہو گا گلہ بھی کرنے سے ظالموں سے گلہ کیا نہ کرو ان سے نکلیں حکائتیں شاید حرف لکھ کر مٹا دیا نہ کرو اپنے رتبے …

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں (خمار بارہ بنکوی)

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں محبت کے ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی وہ پتھر مرے گھر آنے …

تم نغمہِ ماہ ہو، انجم ہو، تم سوزِ تمنا کیا جانو (رضی اختر شوق)

تم نغمہِ ماہ ہو، انجم ہو، تم سوزِ تمنا کیا جانو تم دردِ محبت کیا سمجھو، تم دل کا تڑپنا کیا جانو سو بار اگر تم روٹھ گئے، ہم تم کو منا ہی لیتے تھے ایک بار اگر ہم روٹھ گئے، تم ہم کو منانا کیا جانو تخریبِ محبت آسان ہے، تعمیرِ محبت مشکل ہے …

چمن اپنا لٹا کر بلبلِ ناشاد نکلی ہے (کلیم عاجز)

چمن اپنا لٹا کر بلبلِ ناشاد نکلی ہے مبارکباد، تیری آرزو صیاد نکلی ہے خدا رکھے سلامت تیری چشمِ بے مروت کو بڑی بے درد نکلی ہے بڑی جلاد نکلی ہے نکل کر دل سے آہوں نے کہیں رتبہ نہیں پایا چمن سے جب بھی نکلی بوئے گل، برباد نکلی ہے لبِ بام آکے تم …

امتحانِ شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں (کلیم عاجز)

امتحانِ شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں عشق جب تک واقفِ آدابِ غم ہوتا نہیں ان کی خاطر سے کبھی ہم مسکرا اٹھے تو کیا مسکرا لینے سے دل کا درد کم ہوتا نہیں تم جہاں ہو بزم بھی ہے شمع بھی پروانہ بھی ہم جہاں ہوتے ہیں یہ ساماں بہم ہوتا نہیں رات بھر …

ہر چوٹ پہ پوچھے ہے بتا یاد رہے گی (کلیم عاجز)

ہر چوٹ پہ پوچھے ہے بتا یاد رہے گی ہم کو یہ زمانے کی ادا یاد رہے گی دن رات کے آنسو، سحر وشام کی آہیں اس باغ کی یہ آب و ہوا یاد رہے گی کس دھوم سے بڑھتی ہوئی پہنچی ہے کہاں تک دنیا کو تری زلفِ رسا یاد رہے گی کرتے رہیں …

تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزہ کچھ بھی نہیں (کلیم عاجز)

تلخیاں اس میں بہت کچھ ہیں مزہ کچھ بھی نہیں زندگی دردِ محبت کے سوا کچھ بھی نہیں شمع خاموش بھی رہتے ہوئے خاموش کہاں اس طرح کہہ دیا سب کچھ کہ کہا کچھ بھی نہیں ہم گدایانِ محبت کا یہی سب کچھ ہے گر چہ دنیا یہی کہتی ہے وفا کچھ بھی نہیں یہ …

ہاتھ خالی ہیں تِرے شہر سے جاتے جاتے (راحت اندوری)

 ہاتھ خالی ہیں تِرے شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی، تو میری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہمیں پہچانتا ہے عمر گزری ہے تیرے شہر میں آتے جاتے اب کے مایوس ہوا ہوں یاروں کو رخصت کر کے جارہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے میں تو جلتے ہوئے صحراؤں کا …

لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیں (راحت اندوری)

لوگ ہر موڑ پہ رک رک کے سنبھلتے کیوں ہیں اتنا ڈرتے ہیں تو پھر گھر سے نکلتے کیوں ہیں میکدہ ظرف کے معیار کا پیمانہ ہے خالی شیشوں  کی طرح لوگ اچھلتے کیوں ہیں موڑ ہوتا ہے جوانی کا سنبھلنے کے لیے اور سب لوگ یہیں آ کے پھسلتے کیوں ہیں نیند سے مرا …

ہوش آتے ہی حسینوں کو قیامت آئی (داغ دہلوی)

ہوش آتے ہی حسینوں کو قیامت آئی آنکھ میں فتنہ گری دل میں شرارت آئی کہہ گئے آن سے وہ آ کے مرے مرقد پر سونے والے! تجھے کس طرح سے راحت آئی؟ رکھ دیا ہاتھ مرے منہ پہ شبِ وصل اس نے بے حجابی کے لیے کام شکایت آئی جب یہ کھاتا ہے مرا …