چہرے پہ خوشی چھاجاتی ہے آنکھوں میں سرور آ جاتا ہے (ساحر لدھیانوی)

چہرے پہ خوشی چھاجاتی ہے آنکھوں میں سرور آ جاتا ہے جب تم مجھے اپنا کہتے ہو اپنے پہ غرور آ جاتا ہے تم حسن کی خود اک دنیا ہوشاید یہ تمہیں معلوم نہیں محفل میں تمہارے آنے سے ہر چیز پہ نور آ جاتا ہے ہم پاس سے تم کو کیا دیکھیں تم جب …

وہ پرسشِ حال کو آئیں گے بیمار کو یہ خوش فہمی ہے (عبد العزیز فطرت)

وہ پرسشِ حال کو آئیں گے بیمار کو یہ خوش فہمی ہے جذبات کی بے رونق دنیا میں کتنی گہما گہمی ہے اے گردشِ ساغر! گردشِ دورِ فلک سے مجھ کو خوف نہیں ایام کے چکر سے ڈرنا، ناشکری ہے، نافہمی ہے حوروں سے یہ جی بہلائے گا، کوثر سے یہ جام اڑائے گا میں …

یہ محو ہوئے دیکھ کے بے ساختہ پن کو (حیرت الہ آبادی)

یہ محو ہوئے دیکھ کے بے ساختہ پن کو آئینے میں خود چوم لیا، اپنے دہن کو کرتی ہے نیا روز مرے داغِ کہن کو غربت میں خدا یاد نہ لائے وطن کو چھوڑا وطن، آباد کیا ملکِ دکن کو تقدیر کہاں لے گئی یارانِ وطن کو کیا لطف ہے، جب مونس و یاور نہ …

غم سے بہل رہے ہیں آپ ، آپ بہت عجیب ہیں (پیر زادہ قاسم)

غم سے بہل رہے ہیں آپ ، آپ بہت عجیب ہیں درد میں ڈھل رھے ھیں آپ ، آپ بہت عجیب ہیں سایۂ وصل کب سے ھے ، آپ کا منتظر مگر ھجر میں جل رھے ھیں آپ ، آپ بہت عجیب ہیں اپنے خلاف فیصلہ خود ھی لکھا ھے ، آپ نے ہاتھ بھی …

زندگی یوں تھی ، کہ جینے کا بہانہ تُو تھا (احمد فراز)

زندگی یوں تھی ، کہ جینے کا بہانہ تُو تھا ھم فقط زیبِ حکایت تھے ، فسانہ تُو تھا ھم نے جس جس کو بھی چاھا , تیرے ھِجراں میں وہ لوگ آتے جاتے ھُوئے موسم تھے ، زمانہ تُو تھا اب کے کچھ دل ھی نہ مانا ، کہ پلٹ کر آتے ورنہ ھم …

یہ اخلاصِ گراں مایا بہت ہے(ساحر ہوشیار پوری)

یہ اخلاصِ گراں مایا بہت ہے تم آئے، دل کو چین آیا بہت ہے غمِ دل کو بہت راس آئے ہیں ہم غمِ دل ہم کو راس آیا بہت ہے فریبِ دشمناں ہم کھائیں گے کیا فریبِ دوستاں کھایا بہت ہے مبارک تم کو قصر و چترِ شاہی ہمیں دیوار کا سایا بہت ہے بہت …

میاں میں شیر ہوں شیروں کی غراہٹ نہیں جاتی (منور رانا)

میاں میں شیر ہوں شیروں کی غراہٹ نہیں جاتی میں لہجہ نرم بھی کر لوں تو جھنجھلاہٹ نہیں جاتی میں اک دن بے خیالی میں کہیں سچ بول بیٹھا تھا میں کوشش کر چکا ہوں منہ کی کڑواہٹ نہیں جاتی جہاں میں ہوں وہیں آواز دینا جرم ٹھہرا ہے جہاں وہ ہے وہاں تک پاؤں …

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے (حفیظ ہوشیارپوری)

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے تری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے میں اکثر  سوچتا ہوں پھول کب تک شریکِ گریئہ شبنم نہ ہوں گے دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی اگر کچھ مشورے باہم نہ ہوں گے زمانے بھر کے غم یا اک ترا غم یہ غم ہو گا تو کتنے …

رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں (لالہ مادھو رام جوہر)

رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں شام اودھ کی تو بنارس کی سحر رکھتے ہیں بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں ڈھونڈھ لیتا میں اگر اور کسی جا ہوتے کیا کہوں آپ دل غیر میں گھر رکھتے ہیں اشک قابو میں نہیں …