مانا وہ ایک خواب تھا دھوکا نظر کا تھا (رشید قیصرانی)
مانا وہ ایک خواب تھا دھوکا نظر کا تھا اس بے وفا سے ربط مگر عمر بھر کا تھا خوشبو کی چند مست لکیریں ابھار کر لوٹا ادھر ہوا کا وہ جھونکا، جدھر کا تھا نکلا وہ بار بار گھٹاؤں کی اوٹ سے اس سے معاملہ تو فقط اک نظر کا تھا تم مسکرا رہے …