Category «احمد مشتاق»

مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے (احمد مشتاق)

مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے وہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے جس کی سانسوں سے مہکتے تھے درو بام ترے اے مکاں بول! کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے اک زمانہ تھا کہ سب ایک جگہ رہتے تھے اور اب کوئی کہیں کوئی کہیں رہتا ہے روز …

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں (احمد مشتاق)

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں ابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میں موسمِ گل ہو کہ پت جھڑ ہو بلا سے اپنی ہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں ہم سے مخفی نہیں کچھ رہگزرِ شوق کا حال ہم نے اک عمر گزاری ہے ہوا خانے میں …

شامِ غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں (احمد مشتاق)

شامِ غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں کب وہ رخصت ہوئے کب رات ڈھلی یاد نہیں دل سے بہتے ہوئے پانی کی صدا گذری تھی کب دھندلکا ہوا کب شام ڈھلی یاد نہیں ٹھنڈے موسم میں پکارا کوئی ہم آتے ہیں جس میں ہم کھیل رہے تھے وہ گلی یاد نہیں ان مضافات …

خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا (احمد مشتاق)

خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا یہ الگ بات کہ ممکن نہیں ایسا ہونا دیکھتا اور نہ ٹھہرتا تو کوئی بات بھی تھی جس نے دیکھا ہی نہیں اس سے خفا کیا ہونا تجھ سے دوری میں بھی خوش رہتا ہوں پہلے کی طرح بس کسی وقت برا لگتا ہے تنہا …

چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیا (احمد مشتاق)

چاند اس گھر کے دریچوں کے برابر آیا دلِ مشتاق ٹھہر جا وہی منظر آیا میں بہت خوش تھا کڑی دھوپ کے سائے میں کیوں تری یاد کا بادل مرے سر پر آیا بجھ گئی رونقِ پروانہ تو محفل چمکی سو گئے اہلِ تمنا تو ستم گر آیا یار سب جمع ہوئے رات کی تاریکی …

ان موسموں میں ناچتے گاتے رہیں گے ہم (احمد مشتاق)

ان موسموں میں ناچتے گاتے رہیں گے ہم ہنستے رہیں گے شور مچاتے رہیں گے ہم لب سوکھ کیوں نہ جائیں گلا بیٹھ کیوں نہ جائے دل میں جو سوال ہیں اٹھاتے رہیں گے ہم اپنی رہِ سلوک میں چپ رہنا منع ہے چپ رہ گئے تو جان سے جاتے رہیں گے ہم نکلے تو …

بدن نزار ہوا دل ہوا نڈھال مرا (احمد مشتاق)

بدن نزار ہوا دل ہوا نڈھال مرا اس آرزو نے تو بھر کس دیا نکال مرا پلٹ کے بھی نہیں دیکھا پکار بھی نہ سنی رہا جواب سے محروم ہر سوال مرا جہاں اٹھانے ہیں سو رنج ایک یہ بھی سہی سنبھال خود کو مرے دل نہ کر خیال مرا وہ زلف باد صبا بھی …

یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں (احمد مشتاق)

یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں اُسے ڈھونڈیں کہ اُس کو بھول جائیں خیالوں کی گھنی خاموشیوں میں گھلی جاتی ہیں لفظوں کی صدائیں یہ رستے رہروؤں سے بھاگتے ہیں یہاں چھپ چھپ کے چلتی ہیں ہوائیں یہ پانی خامشی سے بہ رہا ہے اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں جو غم جلتے ہیں …

اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیا جلایئے (احمد مشتاق )

اب نہ بہل سکے گا دل اب نہ دیا جلایئے عشق و ہوس ہیں سب فریب آپ سے کیا چھپایئے اس نے کہا کہ یاد ہیں رنگ طلوع عشق کے میں نے کہا کہ چھوڑیئے اب انہیں بھول جایئے کیسے نفیس تھے مکاں صاف تھا کتنا آسماں میں نے کہا کہ وہ سماں آج کہاں …

وہی ان کی ستیزہ کاری ہے (احمد مشتاق)

وہی ان کی ستیزہ کاری ہے وہی بے چارگی ہماری ہے وہی ان کا تغافلِ پیہم وہی اپنی گلہ زاری ہے وہی رخسار و چشم و لب ان کے وہی بے چارگی ہماری ہے حسن ہو خیر ہو صداقت ہو سب پہ ان کی اجارہ داری ہے ہاتھ اٹھا توسن تخیل سے یہ کسی اور …