Category «جگرمرادآبادی»

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی وفا یاد (جگر مراد آبادی)

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی وفا یاد اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد میں شکوہ بلب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یاد شاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے اب تک ہے وہ اک نغمئہ بے ساز و سدا یاد …

خاص اِک شان ہے یہ آپ کے دیوانوں کی (جگر مراد آبادی)

خاص اِک شان ہے یہ آپ کے دیوانوں کی دھجیاں خود بخود اڑتی ہیں گریبانوں کی سخت دشوار حفاظت تھی گریبانوں کی آبرو موت نے رکھ لی ترے دیوانوں کی رحم کر اب تو جنوں! جان پہ دیوانوں کی دھجیاں پاؤں تک آپہنچیں گریبانوں کی گرد بھی مل نہیں سکتی ترے دیوانوں کی خاک چھانا …

کیا چیز تھی، کیا چیز تھی ظالم کی نظر بھی (جگر مراد آبادی)

کیا چیز تھی، کیا چیز تھی ظالم کی نظر بھی اُف کر کے وہیں بیٹھ گیا دردِ جگر بھی یہ مجرمِ الفت ہے، تو وہ مجرمِ دیدار دل لے کے چلے ہو تو لیے جاؤ نظر بھی کیا دیکھیں گے ہم جلوہِ محبوب کہ ہم سے دیکھی نہ گئی دیکھنے والے کی نظر بھی مایوس …

شاعرِ فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں (جگر مراد آبادی)

شاعرِ فطرت ہوں جب بھی فکر فرماتا ہوں میں رُوح بن کر ذرے ذرے میں سما جاتا ہوں میں آ کہ تجھ بن اس طرح اے دوست گھبراتا ہوں میں جیسے ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتا ہوں میں جس قدر افسانئہ ہستی کو دہراتا ہوں میں اور بھی بیگانئہ ہستی ہوا جاتا …

اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے (جگر مراد آبادی)

اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے سمٹے تو دلِ عاشق،  پھیلے تو زمانہ ہے کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے ہم خاک نشینوں کی ٹھو کر میں زمانہ ہے تصویر کے دو رخ ہیں ، جان اور غمِ جاناں اک نقش چھپانا ہے ، اک نقش دکھانا ہے یہ …

کسی صورت نمودِ سوزِ پنہانی نہیں جاتی (جگر مراد ابادی)

کسی صورت نمودِ سوزِ پنہانی نہیں جاتی بجھا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتی صداقت ہو تو دل سینوں سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ حقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی وہ یوں دل سے گزرتے ہیں کہ آہٹ تک نہیں ہوتی وہ یوں آواز دیتے ہیں کہ پہچانی نہیں جاتی …

دل میں کسی کے راہ کیے جا رہا ہوں میں (جگر مراد آبادی)

دل میں کسی کے راہ کیے جا رہا ہوں میں کتنا حسیں گناہ کیے جا رہا ہوں میں مجھ سے لگے ہیں عشق کی عظمت کو چار چاند خود حسن کو گواہ کیے جا رہا ہوں میں گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز کانٹوں سے بھی نبھاہ کیے جا رہا ہوں میں آگے …

عشق کو بے نقاب ہونا تھا (جگر مراد آبادی)

عشق کو بے نقاب ہونا تھا آپ اپنا جواب ہو نا تھا مستِ جامِ شراب ہونا تھا بے خودئی اضطراب ہونا تھا تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں ہاں مجھے خراب ہونا تھا آؤ مل جاؤ مسکرا کے گلے ہو چکا جو عتاب ہونا تھا کوچئہ عشق میں نکل آیا جس کو خانہ خراب ہونا …

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں (جگر مراد آبادی)

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں یہ تو نے کہا کیا اے ناداں فیاضی قدرت عام نہیں تو فکر و نظر تو پیدا کر کیا چیز ہے جو انعام نہیں یارب یہ مقام عشق ہے کیا گو دیدہ و دل ناکام نہیں …

محبت میں کیا کیا مقام آرہے ہیں (جگر مراد آبادی)

محبت میں کیا کیا مقام آرہے ہیں کہ منزل پہ ہیں اور چلے جارہے ہیں یہ کہہ کہہ کے ہم دل کو بہلا رہے ہیں وہ اب چل چکے ہیں وہ اب آرہے ہیں وہ از خود ہی نادم ہوئے جارہے ہیں خدا جانے کیا کیا خیال آرہے ہیں ہمارے ہی دل سے مزے ان …