Category «جگرمرادآبادی»

اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے (جگر مراد آبادی)

اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے سمٹے تو دلِ عاشق،  پھیلے تو زمانہ ہے کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے ہم خاک نشینوں کی ٹھو کر میں زمانہ ہے تصویر کے دو رخ ہیں ، جان اور غمِ جاناں اک نقش چھپانا ہے ، اک نقش دکھانا ہے یہ …

کسی صورت نمودِ سوزِ پنہانی نہیں جاتی (جگر مراد ابادی)

کسی صورت نمودِ سوزِ پنہانی نہیں جاتی بجھا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتی صداقت ہو تو دل سینوں سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ حقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی وہ یوں دل سے گزرتے ہیں کہ آہٹ تک نہیں ہوتی وہ یوں آواز دیتے ہیں کہ پہچانی نہیں جاتی …

دل میں کسی کے راہ کیے جا رہا ہوں میں (جگر مراد آبادی)

دل میں کسی کے راہ کیے جا رہا ہوں میں کتنا حسیں گناہ کیے جا رہا ہوں میں مجھ سے لگے ہیں عشق کی عظمت کو چار چاند خود حسن کو گواہ کیے جا رہا ہوں میں گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیز کانٹوں سے بھی نبھاہ کیے جا رہا ہوں میں آگے …

عشق کو بے نقاب ہونا تھا (جگر مراد آبادی)

عشق کو بے نقاب ہونا تھا آپ اپنا جواب ہو نا تھا مستِ جامِ شراب ہونا تھا بے خودئی اضطراب ہونا تھا تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں ہاں مجھے خراب ہونا تھا آؤ مل جاؤ مسکرا کے گلے ہو چکا جو عتاب ہونا تھا کوچئہ عشق میں نکل آیا جس کو خانہ خراب ہونا …

محبت میں کیا کیا مقام آرہے ہیں (جگر مراد آبادی)

محبت میں کیا کیا مقام آرہے ہیں کہ منزل پہ ہیں اور چلے جارہے ہیں یہ کہہ کہہ کے ہم دل کو بہلا رہے ہیں وہ اب چل چکے ہیں وہ اب آرہے ہیں وہ از خود ہی نادم ہوئے جارہے ہیں خدا جانے کیا کیا خیال آرہے ہیں ہمارے ہی دل سے مزے ان …

آدمی آدمی سے ملتا ہے (جگر مراد آبادی)

آدمی آدمی سے ملتا ہے دل مگر کم کسی سے ملتا ہے بھول جاتا ہوں میں ستم اس کے وہ کچھ اس سادگی سے ملتا ہے مل کے بھی جو کبھی نہیں ملتا ٹوٹ کر دل اسی سے ملتا ہے آج کیا بات ہے کہ پھولوں کا رنگ تیری ہنسی سے ملتا ہے سلسلہ فتنۂ …

جو اب بھی نہ تکلیف فرمائیے گا (جگر مراد آبادی)

جو اب بھی نہ  تکلیف فرمائیے گا تو بس ہاتھ ملتے ہی رہ جائیے گا نگاہوں سے چھپ کر کہاں جائیے گا جہاں جائیے گا، ہمیں پائیے گا ہمیں جب نہ ہوں گے تو کیا رنگِ محفل کسے دیکھ کر آپ شرمائیے گا مرا جب برا حال سن پائیے گا خراماں خراماں، چلے آئیے گا …

یہ فلک یہ ماہ و انجم ، یہ زمیں یہ زمانہ (جگر مراد آبادی)

یہ فلک یہ ماہ و انجم ، یہ زمیں یہ زمانہ ترے حسن کی حکایت ، مرے عشق کا فسانہ یہ ہے عشق کی کرامت ، یہ کمالِ شاعرانہ ابھی منہ سے بات نکلی ، ابھی ہو گئی فسانہ یہ علیل سی فضائیں،  یہ مریض سا زمانہ  تری پاک تر جوانی ، ترا حسنِ معجزانہ …

آﺋﮯ ﺯﺑﺎﮞ ﭘﮧ ﺭﺍﺯِ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺤﺎﻝ ﮨﮯ (جگر مراد آبادی)

آﺋﮯ ﺯﺑﺎﮞ ﭘﮧ ﺭﺍﺯِ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺤﺎﻝ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻣﺠﮭﮯﻋﺰﯾﺰ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﻧﺎﺯُﮎ ﺗِﺮﮮ ﻣﺮﯾﺾِ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺣﺎﻝ ﮨﮯ ﺩﻥ ﮐﭧ ﮔﯿﺎ، ﺗﻮ ﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﮐﭩﻨﺎ ﻣﺤﺎل ﮨﮯ ﺩﻝ، ﺗﮭﺎ ﺗﺮﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﭼﻤﻦ ﭼﻤﻦ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺭﻭﺵ ﺭﻭﺵ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﭘﺎﺋﻤﺎﻝ ﮨﮯ ﮐﻢ ﺑﺨﺖ ﺍِﺱ ﺟُﻨﻮﻥِ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭﮞ! ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ …

جب ہر اک شورشِ غم ضبطِ فغاں تک پہنچے (جگر مراد آبادی)

جب ہر اک شورشِ غم ضبطِ فغاں تک پہنچے پھر خدا جانے یہ ہنگامہ کہاں تک پہنچے کیا تعجب کہ مِری روحِ رواں تک پہنچے پہلے کوئی مِرے نغموں کی زباں تک پہنچے رہِ عرفاں میں اک ایسا بھی مقام آتا ہے ہر یقیں بڑھ کے جہاں وہم و گماں تک پہنچے ان کا جو …