Category «منیر نیازی»

اک پردہ کالی مخمل کا آنکھوں پر (منیر نیازی)

پاگل پن اِک پردہ کالی مخمل کا آنکھوں پر چھانے لگتا ہے اک بھنور ہزاروں شکلوں کا دل کو دہلانے لگتا ہے اک تیز حنائی خوشبو سے ہر سانس چمکنے لگتا ہے اک پھول طلسمی رنگوں کا گلیوں میں دمکنے لگتا ہے سانپوں سے بھرے اک جنگل کی آواز سنائی دیتی ہے ہر اینٹ مکانوں …

دکھ کی بات (منیر نیازی)

دکھ کی بات بچھڑ گئے تو پھر بھی ملیں گے ہم دونوں اِک بار یا اِس بستی دنیا میں یا اِس کی حدوں سے پار لیکن غم ہے تو بس اتنا جب ہم وہاں ملیں گے ایک دوسرے کو ہم کیسے تب پہچان سکیں گے یہی سوچتے اپنی جگہ پر چُپ چُپ کھڑے رہیں گے …

بیت گیا طوفان پریت کا (منیر نیازی)

خوشی کا گیت بیت گیا طوفان پریت کا بیت گیا طوفان ساری رات کٹھن تھی کتنی جیسے جلے پہاڑ درد کا بادل گرجا جیسے بندوقوں کی باڑ بجلی بن کر کڑک رہے تھے چاہت کے ارمان بیت گیا طوفان ختم ہوا وہ ارمانوں کے پاگل پن کا زور مدھم ہو کر مِٹا سلگتی تیز ہوا …

سامنے ہے اِک تماشائے بہارِ جاں ستاں (منیر نیازی)

خواب گاہ سامنے ہے اِک تماشائے بہارِ جاں ستاں جا بہ جا بکھری ہوئی خوشبو کی شیشیاں نیم وا ہونٹوں پہ سرخی کے مدھم نشاں ریشمی تکیے میں پیوست اس کی انگلیاں دیکھ اے دل، شوق سے یہ آرزو کا کارواں رنگ و بو کے سلسلے، لعل و گہر کی وادیاں پھر نہ جانے تو …

دشمنوں کے درمیان شام (منیر نیازی)

پھیلتی ہے شام دیکھو ڈوبتا ہے دن عجب آسماں پر رنگ دیکھو ہو گیا کیسا غضب کھیت ہیں اور ان میں اک روپوش سے دشمن کا شک سرسراہٹ سانپ کی گندم کی وحشی گر مہک اک طرف دیوار و در اور جلتی بجھتی بتیاں اک طرف سر پر کھڑا یہ موت جیسا آسماں دشمنوں

پرے سے دیکھو تو صرف خوشبو (منیر نیازی)

طلسمات پرے سے دیکھو تو صرف خوشبو ، قریب جاؤ تو اک نگر ہے طلسمی رنگوں سے بھیگتے گھر ، نسائی سانسوں سے بند گلیاں خموش محلوں میں خوبصورت طلائی شکلوں کی رنگ رلیاں کسی دریچے کی چِق کے پیچھے دہکتے ہونٹوں کی سرخ کلیاں پرے سے تکتی ہر اِک نظر اُس نگر کی راہوں …

کبھی چمکتے ہوئے چاند کی طرح روشن (منیر نیازی)

کبھی چمکتے ہوئے چاند کی طرح روشن کبھی طویل شبِ ہجر کی طرح غمگیں شعاعِ لعل و حنا کی طرح مہکتی ہوئیں کبھی سیاہئی کوہِ ندا میں پردہ نشیں سنبھل کے دیکھ طلسمات اُن نگاہوں کا دلِ تباہ کی رنگین پناہوں کا

اور ہیں کتنی منزلیں باقی (منیر نیازی)

اور ہیں کتنی منزلیں باقی جان کتنی ہے جسم میں باقی زندہ لوگوں کی بود و باش میں ہیں مردہ لوگوں کی عادتیں باقی اس سے ملنا وہ خواب ہستی میں خواب معدوم حسرتیں باقی بہہ گئے رنگ و نور کے چشمے رہ گئیں ان کی رنگتیں باقی جن کے ہونے سے ہم بھی ہیں …