Category «شاعری»

دِن کی اک اک بُوند گراں ہے،  اک اک جرعئہ شب نایاب (مصطفیٰ زیدی)

دِن کی اک اک بُوند گراں ہے،  اک اک جرعئہ شب نایاب شام و سحر کے پیمانے میں جو کچھ ہے ، ڈر ڈر کےپیئو آہِستہ آہِستہ برتواِن گِنتی کی  سانسوں کو دِل کے ہات میں شیشئہ جاں ہے ، قطرہ قطرہ کر کے پیئو

جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی (مصطفیٰ زیدی)

جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی مُدتوں اپنے بدن سے تِری خوشبو آئی میرے نغمات کی تقدیر نہ پہنچے تجھ تک میری فریاد کی قسمت کہ تجھے چُھو آئی ہاں نمازوں کا اثر  دیکھ لیا پچھلی رات میں اِدھر سے گیا کہ اُدھر تو آئی مژدہ اے دل  کہ کسی پہلو تو قرار …

ڈاک خانے کے ٹکٹ گھر پر خریداروں کی بھیڑ! (مجید امجد)

لاہور میں ڈاک خانے کے ٹکٹ گھر پر خریداروں کی بھیڑ! ایک چوبی طاقچے پر کچھ دواتیں۔۔۔۔۔۔۔اِک قلم یہ قلم میں نے اٹھایا اور خط لکھنے لگا “پیارے ماموں جی ! دُعا کیجے ۔۔۔خدا۔۔۔۔۔۔رکھ لے۔۔۔۔۔۔بھرم “آج انٹرویو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل تک فیصلہ ہو جائے گا “دیکھیں کیا ہو ؟ مجھ کو ڈر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ اتنے میں …

چاندی کی پازیب کے بجتے گھنگھروؤں سے کھیلے (مجید امجد)

کون؟ چاندی کی پازیب کے بجتے گھنگھروؤں سے کھیلے ریشم کی رنگیں لُنگی کی سرخ البیلی ڈوری نازک نازک پاؤں برقعے کو ٹھُکراتے جائیں چھم چھم بجتی جائے پائل ، ناچتی جائے ڈوری! ہائے سنہری تلے کی گلکاری والی چپلی جس سے جھانکے مست سہاگن مہندی چوری چوری جانے کتنی سندر ہوگی رُوپ نگر کی …

دیکھ اے دل، کیا سماں ہے،  کیا بہاریں شام ہے (مجید امجد)

دیکھ اے دل؟ دیکھ اے دل، کیا سماں ہے،  کیا بہاریں شام ہے وقت کی جھولی میں جتنے پھول ہیں انمول ہیں نہر کی پٹڑی کے دورویہ ، مسلسل دور تک برگدوں پر پنچھیوں کے غل مچاتے غول ہیں دیکھ اے دل ،  کتنے ارمانوں کا رس برسا گئیں بدلیاں،  جب ان پہ چھینٹے نور …

نازنیں ! اجنبی شہرِ محبت ہوں میں  (مجید امجد)

نووارد نازنیں ! اجنبی شہرِ محبت ہوں میں          میں ترے دیس کے اطوار سے ناواقف ہوں دیدۃ شوق کی بیباک نگاہی پہ نہ جا کیا کروں جرءاتِ گفتار سے ناواقف ہوں چل پڑا ہوں ترے دامن کو پکڑ کر لیکن اس کٹھن جادۃ پُرخار سے ناواقف  ہوں مست ہوں عشرتِ آغاز کی سرمستی میں …

برس گیا بہ خراباتِ آرزو ، ترا غم (مجید امجد)

برس گیا بہ خراباتِ آرزو ، ترا غم قدح قدح تری یادیں،  سبو سبو ترا غم ترے خیال کے پہلو سے اُٹھ کے جب دیکھا مہک رہا تھا زمانے میں سو بہ سو ترا غم  غبارِ رنگ میں رس ڈھونڈتی کِرن، تری دھن!  گرفتِ سنگ میں بل کھاتی آبجو ترا غم ندی پہ چاند کا …

غزل (پرواز جالندھری)

جن کے ہونٹوں پہ ہنسی پاؤں میں چھالے ہوں گے ہاں وہی لوگ تمہیں چاہنے والے ہوں گے   مے برستی ہے فضاؤں پہ نشی طاری ہے میرے ساقی نے کہیں جام اچھالے ہوں گے   شمع وہ لائے ہیں ہم جلوہ گہہِ جاناں سے اب دو عالم میں اجالے ہی اجالے ہوں گے   …

غزل (سلیم احمد)

عشق میں جس کے یہ حال بنا رکھا ہے اب وہی کہتا ہے اس وضع میں کیا رکھا ہے   حالِ دل کون سنائے اسے فرصت کس کو سب کو اس آنکھ نے باتوں میں لگا رکھا ہے   دیکھ اے دل! نہ کہیں بات یہ اس تک پہنچے چشمِ نمناک نے طوفان اٹھا رکھا …

غزل (عبیدالہ علیم)

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے   ملے ہیں یوں تو بہت آؤ اب ملیں یوں بھی کہ روح گرمئ انفاس سے پگھل جائے   محبتوں میں عجب ہے دلوں کو دھڑکا سا کہ جانے کون کہاں راستہ بدل جائے   میں وہ …