ایک رقاصہ تھی کس کس سے اشارے کرتی (احمد ندیم قاسمی)
ایک رقاصہ تھی کس کس سے اشارے کرتی آنکھیں پتھرائیں اداؤں میں توازن نہ رہا ڈگمگائی تو سب طرف سے آواز آئی فن کے اس اوج پہ تیرے سوا کون گیا فرشِ مرمر پہ گری گر کے اٹھی اٹھ کے جھکی خشک ہونٹوں پہ زباں پھیر کے پانی مانگا اوک اٹھائی تو تماشائی سنبھل کر …