اور بھی دورِ فلک ہیں ابھی آنے والے (اکبر الہ آبادی)
اور بھی دورِ فلک ہیں ابھی آنے والے ناز اتنا نہ کریں ہم کو مٹانے والے اٹھتے جاتے ہیں اب اس بزم سے اربابِ نظر گھٹتے جاتے ہیں مرے دل کے بڑھانے والے خاتمہ عیش کا حسرت ہی پہ ہوتے دیکھا رو ہی کے اٹھتے ہیں اس بزم سے گانے والے حدِ ادراک میں داخل …