دل کو مِٹا کے داغِ تمنا دیا مجھے (جگر مراد آبادی)
دل کو مِٹا کے داغِ تمنا دیا مجھے اے عشق! تیری خیر ہو ، یہ کیا دیا مجھے محشر میں بات بھی نہ زباں سے نکل سکی کیا جھک کے اُس نگاہ نے سمجھا دیا مجھے میں اور آرزوئے وصالِ پری رُخاں اس عشقِ سادہ لوح نے بھٹکا دیا مجھے ہر بار …