امانت محتسب کے گھر شرابِ ارغواں رکھ دی (سائل دہلوی)
امانت محتسب کے گھر شرابِ ارغواں رکھ دی تو یہ سمجھو کہ بنیادِ خراباتِ مغاں رکھ دی یہاں تک تو نبھایا میں نے ترکِ مے پرستی کو کہ پینے کو اٹھالی اور لیں انگڑائیاں ، رکھ دی جنابِ شیخ مے خانے میں بیٹھے ہیں برہنہ سر اب ان سے کون پوچھے آپ نے پگڑی کہاں …