امانت محتسب کے گھر شرابِ ارغواں رکھ دی (سائل دہلوی)

امانت محتسب کے گھر شرابِ ارغواں رکھ دی  تو یہ سمجھو کہ بنیادِ خراباتِ مغاں رکھ دی یہاں تک تو نبھایا میں نے ترکِ مے پرستی کو کہ پینے کو اٹھالی اور لیں انگڑائیاں ، رکھ دی جنابِ شیخ مے خانے میں بیٹھے ہیں برہنہ سر اب ان سے کون پوچھے آپ نے پگڑی کہاں …

اس کو کہتے ہیں قناعت قول یہ سائل کا ہے (سائل دہلوی)

اس کو کہتے ہیں قناعت قول یہ سائل کا ہے گوہرِ شہوار تبخالہ لبِ ساحل کا ہے آپ یہ سمجھتے ہیں کہ گویا تیر مارا آپ نے ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ جذبہ ہمارے دل کا ہے  دوستوں کی اشک شوئی سے مجھے کیا فائدہ ان کو آنکھوں کی پڑی ہے مجھ کو رونا …

فصلِ گل اب آ گئی وحشت کا ساماں دیکھیے (سائل دہلوی)

فصلِ گل اب آ گئی وحشت کا ساماں دیکھیے سنگِ طفلاں دیکھیے خارِ مغیلاں دیکھیے  دعوئی آہن گدازی گر مِرا باور نہیں تیر کچھ دل میں چبھو کر اُن کے پیکاں دیکھیے کیوں کسی سے پوچھیے خستہ سری کا ماجرا قُفل کھُلوا کردر ودیوارِ زنداں دیکھیے جانیے آسیبِ ہستی سے اُسی کو مطمئن ذرہ ذرہ …

نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا (فراق گورکھ پوری)

نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا حجاب اہلِ محبت کو آئے ہیں کیا کیا جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلووں کی چراغِ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا دو چار برقِ تجلی سے رہنے والوں نے فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا بقدرِ ذوقِ نظر دیدِ حسن کیا …

کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں (فراق گورکھ پوری)

کمی نہ کی ترے وحشی نے خاک اڑانے میں جنوں کا نام اچھلتا رہا زمانے میں فراق دوڑ گئی روح سی زمانے میں کہاں کا درد بھرا تھا فسانے میں وہ آستیں ہے کوئی جو لہو نہ دے نکلے وہ کوئی حسن ہے ججھکے جو رنگ لانے میں کبھی بیان دل خوں شدہ سے یہ …

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں (فراق گورکھ پوری)

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسہ بھی نہیں یہ بھی سچ ہے کہ محبت پہ نہیں میں مجبور یہ بھی سچ  کہ  ہے تِرا حسن کچھ ایسا بھی نہیں دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں لیکن اس جلوہ گہِ ناز سے اٹھتا …

رکی رکی سی شبِ مرگ ختم پر آئی (فراق گورکھ پوری)

رکی رکی سی شبِ مرگ ختم پر آئی وہ پو پھٹی وہ نئی زندگی نظر آئی یہ موڑ وہ ہے کہ پرچھائیں بھی دیں گی نہ ساتھ مسافروں سے کہو اس کی راہگزر آئی فضا تبسمِ صبحِ بہار تھی لیکن پہنچ کے منزلِ جاناں پہ آنکھ بھر آئی کہیں زمان و مکاں میں ہے نام …

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں (فراق گورکھ پوری)

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں ہم ایسے میں تِری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں …

آج بھی قافلئہ عشق رواں ہے کہ جو تھا (فراق گورکھ پوری)

آج بھی قافلئہ عشق رواں ہے کہ جو تھا وہی میل اور وہی سنگِ نشاں ہے  کہ جو تھا آج بھی کام محبت کے بہت نازک ہیں دل وہی کارگہِ شیشہ گراں ہے کہ جو تھا قرب ہی کم ہے نہ دوری ہی زیادہ لیکن آج وہ ربط کا احساس کہاں ہے کہ جو تھا …

اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے (جگر مراد آبادی)

اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے سمٹے تو دلِ عاشق،  پھیلے تو زمانہ ہے کیا حسن نے سمجھا ہے کیا عشق نے جانا ہے ہم خاک نشینوں کی ٹھو کر میں زمانہ ہے تصویر کے دو رخ ہیں ، جان اور غمِ جاناں اک نقش چھپانا ہے ، اک نقش دکھانا ہے یہ …