باتیں ہماری یاد رہیں گی باتیں نہ ایسی سنیے گا (میر تقی میر)

باتیں ہماری یاد رہیں گی باتیں نہ ایسی سنیے گا پڑھتے کسو کو سنیے گا تو دیر تلک سر دھنیے گا سعی و تلاش بہت سی رہے گی اس انداز کے کہنے کی صحبت میں علماء فضلاء کی جاکر پڑھیے گا گنیے گا دل کی تسلی جب کہ ہوگی گفت و شنود سے لوگوں کی …

رہی نہ گفتہ مرے دل میں داستاں میری (میر تقی میر)

رہی نہ گفتہ مرے دل میں داستاں میری نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری بہ رنگِ صوتِ جرس تجھ سے دور ہوں تنہا خبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری اُسی سے دور رہا اصل مدعا جو تھا گئی یہ عمرِ عزیزیز آہ رائگاں میری ترے فراق میں جیسے خیال مفلس کا گئی …

دل ہے اپنا نہ اب جگر اپنا (جلیل مانک پوری)

دل ہے اپنا نہ اب جگر اپنا کر گئی کام وہ نظر اپنا اب تو دونوں کی ایک حالت ہے دل سنبھالوں کہ میں جگر اپنا میں ہوں گو بے خبر زمانے سے دل ہے پہلو میں با خبر اپنا دل میں آئے تھے سیر کرنے کو رہ پڑے وہ سمجھ کے گھر اپنا تھا …

دیدار کی ہوس ہے نہ شوقِ وصال ہے (جلیل مانک پوری)

دیدار کی ہوس ہے نہ شوقِ وصال ہے آزاد ہر خیال سے مست خیال ہے کہہ دو یہ کوہکن سے کہ مرنا نہیں کمال مر مر کے ہجرِ یار میں جینا کمال ہے فتویٰ دیا ہے مفتئی ابرِ بہار نے توبہ کا خون بادہ کشوں کو حلال ہے آنکھیں بتا رہی ہیں کہ جاگے ہو …

وصل میں وہ چھیڑنے کا حوصلہ جاتا رہا (جلیل مانک پوری)

وصل میں وہ چھیڑنے کا حوصلہ جاتا رہا تم گلے سے کیا ملے سارا گلہ جاتا رہا یار تک پہنچا دیا بیتابئی دل نے ہمیں اک تڑپ میں منزلوں کا حوصلہ جاتا رہا ایک تو آنکھیں دکھائیں پھر یہ شوخی سے کہا کہیے اب تو کم نگاہی کا گلہ جاتا رہا روز جاتے تھے خط …

ہمارا دل وہ گل ہے جس کو زلفِ یار میں دیکھا (جلیل مانک پوری)

ہمارا  دل وہ گل ہے جس کو زلفِ یار میں دیکھا جو زلفیں ہو گئیں برہم گلے کے ہار میں دیکھا بھلا گل کیا ترا ہم سر ہو جس کی یہ حقیقت ہے ابھی گلشن میں دیکھا تھا ابھی بازار میں دیکھا بصیرت جب ہوئی پیدا ہمیں مشقِ تصور سے جو کچھ خلوت میں دیکھا …

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں (جلیل مانک پوری)

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں جوابِ خشک سنوں ساقیا یہ تاب نہیں شراب دے کہ نہ دے یہ نہ کہہ شراب نہیں وہ اپنے عکس کو آواز دے کے کہتے ہیں تِرا جواب تو میں ہوں مِرا جواب نہیں مئے طور ہے رِندوں ہی کے لیے …

موسمِ گل میں عجب رنگ ہے مے خانے کا (جلیل مانک پوری)

موسمِ گل میں عجب رنگ ہے مے خانے کا شیشہ جھکتا ہے کہ منہ چوم لے پیمانے کا میں سمجھتا ہوں تِری عشوہ گری کو ساقی کام کرتی ہے نظر نام ہے پیمانے کا بے خودی جائے دم بھر یہ مجھے منظور نہیں ہوش آیا کہ لیا راستہ مے خانے کا چارہ گر چاہیے دونوں …

مرے جذبِ دل کا اثر دیکھ لینا (جلیل مانک پوری)

مرے جذبِ دل کا اثر دیکھ لینا تم آؤگے تھامے جگر دیکھ لینا نشانہ بناؤ گے تم کیا عدو کو ہمیں ہوں گے مدِ نظر دیکھ لینا دکھانا مرا نامئہ شوق قاصد مگر پہلے ان کی نظر دیکھ لینا مزے لیں گے ہم دیکھ کر تیری آنکھیں اُنہیں خوب تُو نامہ بر دیکھ لینا کسی …

محتسب تجھ کو خبر کیا مِرے پیمانے کی (جلیل مانک پوری)

محتسب تجھ کو خبر کیا مِرے پیمانے کی میں جو پیتا ہوں وہ ہے اور ہی مے خانے کی مست کر دیتی ہے پہلے ہی نگاہِ ساقی آنکھ کے سامنے چلتی نہیں پیمانے کی میں نے پوچھا تھا کہ ہے منزلِ مقصود کہاں خضر نے راہ بتائی مجھے مے خانے کی آپ پہلو میں جو …