یہ جو دو اک بہار کے دن ہیں (آرزو لکھنوی)

یہ جو دو اک بہار کے دن ہیں زندگی میں شمار کے دن ہیں ظلم ہے عمر میں شمار ان کا ایسے کچھ انتظار کے دن ہیں جوشِ گل میں بھی خار کی ہے خلش اک مصیبت بہار کے دن ہیں ہے معین نفس کی آمد و شد عمر کتنی ، شمار کے دن ہیں …

وہ سرِ بام کب نہیں آتا (آرزو لکھنوی)

وہ سرِ بام کب نہیں آتا جب میں ہوتا ہوں تب نہیں آتا زہر نعمت ، نہ موت لائقِ شوق کیا کریں چین جب نہیں آتا بھولی ہوئی باتوں پہ تیری دل کو یقین پہلے آتا تھا اب نہیں آتا اُن کے آگے بھی دل کو چین نہیں بے ادب کو ادب نہیں آتا آرزو …

وصل جب ہوتا ہے ان کا میں یہاں ہوتا نہیں (بیخود دہلوی)

وصل جب ہوتا ہے ان کا میں یہاں ہوتا نہیں یہ زمیں ہوتی نہیں یہ آسماں ہوتا نہیں فصلِ گل میں تنکے چننے کا نہیں سودا مجھے کیا گزارا باغ میں بے آشیاں ہوتا نہیں برق کا گرنا سنا ، صیاد کا کہنا سنو چار تنکوں کا اجڑنا داستاں ہوتا نہیں کچھ نرالی وضع کا …

یہ وہ منزل ہے جہاں سینکڑوں مر جاتے ہیں (بیخود دہلوی)

یہ وہ منزل ہے جہاں سینکڑوں مر جاتے ہیں پاؤں رکھتے ہی تِری راہ میں سر جاتے ہیں اے اجل تُو تو برے وقت میں کام آتی ہے پھر یہ کیوں لوگ ترے نام سے ڈر جاتے ہین میرے عاشق نہ بنو تم مِرے معشوق رہو لطف بھی جور ہیں جب حد سے گزر جاتے …

جس میں وہ جلوہ نما تھا دلِ شیدا ہے وہی (بیخود دہلوی)

جس میں وہ جلوہ نما تھا دلِ شیدا ہے وہی ہم سے پردہ ہے مگر محملِ لیلا ہے وہی جو نکل جائے تمنا نہیں کہتے اس کو جو کھنکتی رہے پہلو میں تمنا ہے وہی لے چلے دل میں تِرا داغِ محبت واے جان دے کر جو خریدا ہے یہ سودا ہے وہی عشق کو …

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے (گلزار)

شام سے آنکھ میں نمی سی ہے آج پھر آپ کی کمی سی ہے دفن کر دو ہمیں کہ سانس ملے نبض کچھ دیر سے تھمی سی ہے کون پتھرا گیا ہے آنکھوں میں برف پلکوں پہ کیوں جمی سی ہے وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر اس کی عادت بھی آدمی سی ہے کوئی …

مریضِ محبت انہی کا فسانہ (قمر جلالوی)

مریضِ محبت انہی کا فسانہ، سناتا رہا دَم نکلتے نکلتے مگر ذکرِ شامِ الم جب بھی آیا چراغِ سحر بجھ گیا جلتے جلتے انہیں خط میں لکھا تھا دل مُضطرِب ہے جواب ان کا آیا، محبت نہ کرتے تمہیں دل لگانے کو کس نے کہا تھا، بہل جائے گا دل، بہلتے بہلتے مجھے اپنے دل …

ذکر جہلم کا ہے، بات ہے دینے کی (گلزار)

ذکر جہلم کا ہے، بات ہے دینے کی چاند پکھراج کا، رات پشمینے کی کیسے اوڑھے گی ادھڑی ہوئی چاندنی رات کوشش میں ہے چاند کو سینے کی کوئی ایس گرا ہے نظر سے کہ بس ہم نے صورت نہ دیکھی پھر آئینے کی درد میں جاودانی کا احساس تھا ہم نے لاڈوں سے پالی …

جو تو گیا تھا تو تیرا خیال رہ جاتا (جمال احسانی)

جو تو گیا تھا تو تیرا خیال رہ جاتا  ہمارا کوئی تو پرسانِ حال رہ جاتا برا تھا یا وہ بھلا، لمحئہ محبت تھا وہیں پہ یہ سلسئہ ماہ و سال رہ جاتا بچھڑتے وقت گر ڈھلکتا نہ ان آنکھوں سے اس ایک اشک کا کیا کیا ملال رہ جاتا تمام آئینہ خانے کی لاج …