Category «شاعری»

اندھیری راہ میں مسافرکہیں نہ بھٹکا تھا (ادا جعفری)

اندھیری راہ میں مسافرکہیں نہ بھٹکا تھا کسی منڈیر پہ جب تک چراغ جلتا تھا وہ کتنی دور رہا فیصلہ بھی اس کا تھا  مجھے تو قرب کے احساس نے سنبھالا تھا یہی غبارِ شب و روز کا کمال بھی ہے جو آنکھ دیکھ نہ پائی وہ دل نے دیکھا تھا سفر تمام ہوا اور …

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں (جگر مراد آبادی)

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں فیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں یہ تو نے کہا کیا اے ناداں فیاضی قدرت عام نہیں تو فکر و نظر تو پیدا کر کیا چیز ہے جو انعام نہیں یارب یہ مقام عشق ہے کیا گو دیدہ و دل ناکام نہیں …

اُلجھی ہوئی راہوں کا شیدا نہ کہا جائے (قتیل شفائی)

اُلجھی ہوئی راہوں کا شیدا نہ کہا جائے ہر ایک مسافر کو مجھ سا نہ کہا جائے میں اس کے تغافل کی تردید نہیں کرتا گو ایسا ہوا لیکن، ایسا نہ کہا جائے یادوں کی رفاقت میں ہر لمحہ گزرتا ہے مجھ کو کسی عالم میں تنہا نہ کہا جائے دُکھ درد چھپانے کا، شاید …

اب مجھے اتنا بھی لاچار نہ سمجھیں مِرے لوگ (احمد فرید)

اب مجھے اتنا بھی لاچار نہ سمجھیں مِرے لوگ  صلح نامے کو مری ہار نہ سمجھیں مرے لوگ میری پسپائی پہ سو جشن منائیں ، لیکن میرے دشمن کو تو سالار نہ سمجھیں مرے لوگ پھر تو یوں ہے کہ مرا خون اکارت ہی گیا گر اب بھی مجھے وفادار نہ سمجھیں مرے لوگ دل …

جب کبھی خواب کی امید بندھا کرتی ہے (جمال احسانی)

جب کبھی خواب کی امید بندھا کرتی ہے نیند آنکھوں میں پریشاں پھرا کرتی ہے یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے دیکھ بے چارگئی کوئے محبت کوئی دم سائے کے واسطے دیوار دعا کرتی ہے صورتِ دل بڑے شہروں میں رہی یک طرفہ جانے …

اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو (منیر نیازی)

اتنے خاموش بھی رہا نہ کرو غمِ جدائی میں یوں کیا نہ کرو خواب ہوتے ہیں دیکھنے کے لئے ان میں جا کر مگر رہا نہ کرو کچھ نہ ہو گا گلہ بھی کرنے سے ظالموں سے گلہ کیا نہ کرو ان سے نکلیں حکائتیں شاید حرف لکھ کر مٹا دیا نہ کرو اپنے رتبے …

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں (خمار بارہ بنکوی)

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں محبت کے ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی وہ پتھر مرے گھر آنے …

تم نغمہِ ماہ ہو، انجم ہو، تم سوزِ تمنا کیا جانو (رضی اختر شوق)

تم نغمہِ ماہ ہو، انجم ہو، تم سوزِ تمنا کیا جانو تم دردِ محبت کیا سمجھو، تم دل کا تڑپنا کیا جانو سو بار اگر تم روٹھ گئے، ہم تم کو منا ہی لیتے تھے ایک بار اگر ہم روٹھ گئے، تم ہم کو منانا کیا جانو تخریبِ محبت آسان ہے، تعمیرِ محبت مشکل ہے …

چمن اپنا لٹا کر بلبلِ ناشاد نکلی ہے (کلیم عاجز)

چمن اپنا لٹا کر بلبلِ ناشاد نکلی ہے مبارکباد، تیری آرزو صیاد نکلی ہے خدا رکھے سلامت تیری چشمِ بے مروت کو بڑی بے درد نکلی ہے بڑی جلاد نکلی ہے نکل کر دل سے آہوں نے کہیں رتبہ نہیں پایا چمن سے جب بھی نکلی بوئے گل، برباد نکلی ہے لبِ بام آکے تم …

امتحانِ شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں (کلیم عاجز)

امتحانِ شوق میں ثابت قدم ہوتا نہیں عشق جب تک واقفِ آدابِ غم ہوتا نہیں ان کی خاطر سے کبھی ہم مسکرا اٹھے تو کیا مسکرا لینے سے دل کا درد کم ہوتا نہیں تم جہاں ہو بزم بھی ہے شمع بھی پروانہ بھی ہم جہاں ہوتے ہیں یہ ساماں بہم ہوتا نہیں رات بھر …