جہاں فروز تھا یادش بخیر اپنا جنوں (جون ایلیا)
جہاں فروز تھا یادش بخیر اپنا جنوں پھر اُس کے بعد کسی شے میں دل کشی نہ رہی دکھائیں کیا تمہیں داغوں کی لالہ انگیزی گزر گئیں وہ بہاریں، وہ فصل ہی نہ رہی
اردوکےمشہورشعئرا اور ان کاکلام
جہاں فروز تھا یادش بخیر اپنا جنوں پھر اُس کے بعد کسی شے میں دل کشی نہ رہی دکھائیں کیا تمہیں داغوں کی لالہ انگیزی گزر گئیں وہ بہاریں، وہ فصل ہی نہ رہی
تو بھی چپ ہے میں بھی چپ ہوں یہ کیسی تنہائی ہے تیرے ساتھ تری یاد آئی کیا تو سچ مچ آئی ہے شاید وہ دن پہلا دن تھا پلکیں بوجھل ہونے کا مجھ کو دیکھتے ہی جب اس کی انگڑائی شرمائی ہے اس دن پہلی بار ہوا تھا مجھ کو رفاقت کا احساس جب …
تمہارا ہجر منا لوں اگر اجازت ہو میں دل کسی سے لگا لوں اگر اجازت ہو تمہارے بعد بھلا کیا ہیں وعدہ و پیماں بس اپنا وقت گنوا لوں اگر اجازت ہو تمہارے ہجر کی شب ہائے کار میں جاناں کوئی چراغ جلا لوں اگر اجازت ہو جنوں وہی ہے وہی میں مگر ہے شہر …
بے قراری سی بے قراری ہے وصل ہے اور فراق طاری ہے جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے نگھرے کیا ہوئے کہ لوگوں پر اپنا سایہ بھی اب تو بھاری ہے بن تمہارے کبھی نہیں آئی کیا مری نیند بھی تمہاری ہے آپ میں کیسے آؤں میں تجھ …
بے دلی کیا یوں ہی دن گزر جائیں گے صرف زندہ رہے ہم تو مر جائیں گے رقص ہے رنگ پر رنگ ہم رقص ہیں سب بچھڑ جائیں گے سب بکھر جائیں گے یہ خراباتیان خرد باختہ صبح ہوتے ہی سب کام پر جائیں گے کتنی دل کش ہو تم کتنا دلجو ہوں میں کیا …
اے کوئے یار تیرے زمانے گزر گئے جو اپنے گھر سے آئے تھے وہ اپنے گھر گئے اب کون زخم و زہر سے رکھے گا سلسلہ جینے کی اب ہوس ہے ہمیں ہم تو مر گئے اب کیا کہوں کہ سارا محلہ ہے شرمسار میں ہوں عذاب میں کہ مرے زخم بھر گئے ہم نے …
بڑی اداس ہے وادی گلا دبایا ہوا ہے کسی نےانگلی سے یہ سانس لیتی رہے، پر یہ سانس لے نہ سکے درخت اگتے ہیں کچھ سوچ سوچ کر جیسے جو سر اٹھائے گا پہلے وہی قلم ہوگا جھکا کے گردنیں آتے ہیں ابر ، نادم ہیں کہ دھوئے جاتے نہیں خون کے نشاں ان سے! …
ایسا خاموش تو منظر نہ فنا کا ہوتا میری تصویر بھی گرتی تو چھناکا ہوتا یوں بھی اک بار تو ہوتا کہ سمندر بہتا کوئی احساس تو دریا کی انا کا ہوتا سانس موسم کی بھی کچھ دیر کو چلنے لگتی کوئی جھونکا تری پلکوں کی ہوا کا ہوتا کانچ کے پار ترے ہاتھ نظر …
الجھن ایک پشیمانی رہتی ہے الجھن اور گرانی بھی۔۔۔۔۔۔ آو پھر سے لڑ کر دیکھیں شاید اس سے بہتر کوئی اور سبب مل جائے ہم کو پھر سے الگ ہو جانے کا!!
غالب کے دو مصرعے ہمارے عندلیبِ گلشنِ ناآفریدہ کو نوائے طائرانِ آشیاں گم کردہ آتی تھی مگر ہم کو نہیں آتی ہمیں آتا بھی کیا ہے خبر کے اُس طرف کیا ہے کبھی اُس پر نظر رکھنے کا فن ہم کو نہیں آیا نظر کے زاویے کس طرح سے ترتیب پاتے ہیں کہاں اور کس …