ہے طرفہ قیامت جو ہم دیکھتے ہیں (جون ایلیا)
ہے طرفہ قیامت جو ہم دیکھتے ہیںترے رخ پہ آثارِ غم دیکھتے ہیں غضب ہے نشیب و فرازِ زمانہنہ تم دیکھتے ہو، نہ ہم دیکھتے ہیں تمنا ہے اب ہم کو بے حرمتی کیسبھی کو یہاں محترم دیکھتے ہیں چلو بے کمند و کماں آج چل کرغزالوں کا اندازِ رَم دیکھتے ہیں یہی تو محبت …