Category «شاعری»

ہم نے آداب غم کا پاس کیا (سحر انصاری)

ہم نے آداب غم کا پاس کیا نقد جاں کو زیاں قیاس کیا زیست کے تجربات کو ہم نے مثل آئینہ انعکاس کیا خبر آگہی کے پردے میں عمر بھر ماتم حواس کیا کیسے اک لفظ میں بیاں کر دوں دل کو کس بات نے اداس کیا آ گیا جب سلیقئہ تعمیر قصر ہستی کو …

سنو! اب ہم محبت میں بہت آگے نکل آئے (خالد معین)

سنو! اب ہم محبت میں بہت آگے نکل آئے کہ اک رستے پہ چلتے چلتے سو رستے نکل آئے اگر چہ کم نہ تھی، چارہ گران شہر کی پرسش مگر! کچھ زخم نادیدہ بہت گہرے نکل آئے محبت کی تو کوئی حد، کوئی سرحد نہیں ہوتی ہمارے درمیاں یہ فاصلے، کیسے نکل آئے بہت دن …

نکتہ چیں ہے، غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے (مرزا غالب)

نکتہ چیں ہے غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے میں بلاتا تو ہوں اس کو مگر اے جذبئہ دل اس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے کھیل سمجھا ہے کہیں چھوڑ نہ دے بھول نہ جائے کاش یوں بھی ہو کہ بن …

خموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں، دلوں میں الفت نئی نئی ہے (شبینہ ادیب کانپوری)

خموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں،  دلوں میں الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو میں ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی نہ آئے گی نیند تم کو ، ابھی نہ ہم کو سکوں ملے گا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ، ابھی یہ چاہت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے …

اندرونِ شہر کی ایک لڑکی کے نام (سرمد صہبائی)

اندرونِ شہر کی ایک لڑکی کے نام وہ احطیاطوں کی پُر پیچ گلیوں سے شرم و حیا کے دبے پاؤں نکلی کہ دریا کے اُس گھاٹ خوابوں کا جنگل تھا اُس کے لہو میں جوانی کی کچی مہک سرسرائی گھنے کھیت میں پیاسی خواہشوں کے چشمے پہ اس نے کنوارے بدن کو پُراسرار عریاں کی …

سرد راتوں کی رِدا ، ڈوبتی نیندوں کی تھکن (سرمد صہبائی)

ان کہی باتوں کی تھکن سرد راتوں کی رِدا ، ڈوبتی نیندوں کی تھکن صبح کے ہاتھوں سے ٹوٹی مرے خوابوں کی تھکن شل ہوئے جاتے ہیں ہر پیڑ کے سوکھے بازو ڈھل گئی زرد خزاؤں میں بہاروں کی تھکن باغ میں پھیلتی تنہائی کے بوجھل پاؤں گِرتے پتوں کی تھکن ، گرم دوپہروں کی …

آنکھ تمہاری مست بھی ہے اور مستی کا پیمانہ بھی (ساغر نظامی)

آنکھ تمہاری مست بھی ہے اور مستی کا پیمانہ بھی ایک چھلکتے ساغر میں مے بھی ہے میخانہ بھی بے خودئ دل کا کیا کہنا سب کچھ ہے اور کچھ بھی نہیں ہستی سے مانوس بھی ہوں ہستی سے بیگانہ بھی حسن نے تیرے دنیا میں کیسی آگ لگا دی ہے برق بھی شعلہ برپا …

گر کیجئے انصاف تو کی زار وفا میں (میرزا محمد رفیع سودا)

گر کیجئے انصاف تو کی زار وفا میں  خط آتے ہی سب چل گئے اب آپ ہیں یا میں تم جن کی ثنا کرتے ہو کیا بات ہے ان کی لیکن ٹک ادھر دیکھیو اے یار بھلا میں رکھتا ہے کچھ ایسی وہ برہمن بچہ رفتار بت ہو گیا دھج دیکھ کے جس کی بہ …

کس سے بیاں کیجیے حال دلِ تباہ کا (میرزا محمد رفیع سودا)

کس سے بیاں کیجیے حال دلِ تباہ کا سمجھے وہی اسے جو ہو زخمی تری نگاہ کا مجھ کو تری طلب ہے یار، تجھ کو چاہ غیر کی اپنی نظر میں یاں نہیں کوئی طور نباہ کا دین ودل ، قرار و صبر عشق میں تیرے کھو چکے جیتے جو اب کے ہم بچے نام …

ٹوٹے تری نگاہ سے اگر دل حباب کا (میرزا محمد رفیع سودا)

ٹوٹے  تری نگاہ سے اگر دل حباب کا پانی بھی پھر پیئیں تو مزہ ہے شراب کا دوزخ مجھے قبول ہے اے منکر ونکیر لیکن نہیں دماغ سوال و جواب کا زاہد سبھی ہے نعمتِ حق جو ہے کل و شَرب لیکن عجب مزہ ہے شراب و کباب کا قطرہ گرا تھا جو کہ مرے …