اے یارِ دلنشیں! وہ ادا کون لے گیا (جوش ملیح آبادی)
کون لے گیا اے یارِ دلنشیں! وہ ادا کون لے گیا تیرے نگیں سے نقشِ وفا کون لے گیا حل کر دیا تھا جس نے معمہ شباب کا تجھ سے وہ فکرِ عقدہ کشا کون لے گیا تھا لطف پہلے قہر میں اب صرف قہر ہے ظلمت سے موجِ آبِ بقا کون لے گیا کیوں …