Category «شاعری»

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں (میر تقی میر)

  یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں   ایک ایک فرطِ دور میں مجھے بھی دو جامِ شراب پُر نہ کرو میں نشے میں ہوں   مستی سے درہمی ہے میری گفتگو کے بیچ جو چاہو تم بھی مجھ سے کہو،  میں …

کوفت سے جان لب پہ آئی ہے (میر تقی میر)

کوفت سے جان لب پہ آئی ہے ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے   لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر شوق نے بات کیا بڑھائی ہے   آرزو اس بلند و بالا کی کیا بلا میرے سر پہ لائی ہے   دیدنی ہے شکستگی دل کی کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے   ہے …

جو اس شور سے میر روتا رہے گا ( میر تقی میر)

    جو اس شور سے میر روتا رہے گا تو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا   مجھے کام رونے سےاکثر ہے ناصح تو کب تک میرے منہ کو دھوتا رہے گا   مِرے دل نے وہ نالہ پیدا کیا ہے جرس کے بھی جو ہوش کھوتا رہے گا   میں وہ رونے والا چلا …

ایک اجلا سا کانپتا دھبا (مجید امجد)

یاد   ایک اجلا سا کانپتا دھبا ذہن کی سطح پر لُڑھکتا ہوا   نقش جس میں کبھی سمٹ آئی لاکھ یادوں کی مست انگڑائی داغ جس کی جبینِ غم پہ کبھی ہو گیا آکے لرزہ بر اندام کسی بھولے ہوئے حبیب کا نام زخم جس کی تپکتی تہہ سے کبھی  رِس پڑے دُکھتے گھونگھٹ …

یہ کیا عجیب راز ہے ( مجید امجد)

  یہ کیا عجیب راز ہے   یہ کیا عجیب راز ہے ، سمجھ سکوں تو بات ہے نہ اب وہ اُن کی بے رُخی ، نہ اب وہ اِلتفات ہے   مِری تباہیوں کا بھی فسانہ کیا فسانہ ہے نہ بجلیوں کا تذکرہ نہ آشیاں کی بات ہے   یہ کیا سکُوں ہے ؟ …

سنہری زلفوں کے مست سائے ( مجید امجد)

  سنہری زلفوں کے مست سائے   نہ پھر وہ ٹھنڈی ہوائیں لوٹیں نہ پھر وہ بادل پلٹ کے آئے نہ پھر کبھی شام کے نم آلود شعلہ زاروں پہ لڑکھڑائے سنہری زلفوں کے مست سائے   سنہری زلفیں جو اڑ کے لہرا کے اِک شفق گُوں محل کی چھت سے گزر چلیں تھیں گزرتے …

زندگی ، اے زندگی (مجید امجد)

    زندگی ، اے زندگی  خرقہ پوش و پا بہ گل میں کھڑا ہوں ، تیرے در پر، زندگی ملتجی و مضمحل خرقہ پوش و پا بہ گل اے جہانِ خار وخس کی روشنی زندگی ، اے زندگی میں ترے در پر ، چمکتی چلمنوں کی اوٹ سے سن رہا ہوں قہقہوں کے دھیمے …

پھول کی خوشبو ہنستی آئی (مجید امجد)

پھول کی خوشبو ہنستی آئی   پھول کی خوشبو ہنستی آئی   میرے بسیرے کو مہکانے   میں خوشبو میں خوشبو مجھ میں   اس کو میں جانوں وہ مجھ کو جانے   مجھ سے چھو کر مجھ میں بس کر   اس کی بہاریں اس کے زمانے   لاکھوں پھولوں کی مہکاریں   رکھتے …

یہ ہے میکدہ یہاں رند ہیں (جگر مراد آبادی)

یہ ہے میکدہ یہاں رِند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی ، یہاں پارسائی حرام ہے   کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب ، تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے مگر اس کا کوئی کرے گا کیا ، یہ تو میکدے  کا نظام ہے   جو …

دل کو مِٹا کے داغِ تمنا دیا مجھے (جگر مراد آبادی)

دل کو مِٹا کے داغِ تمنا دیا مجھے اے عشق! تیری خیر ہو ، یہ کیا دیا مجھے   محشر میں بات بھی نہ زباں سے نکل سکی کیا جھک کے اُس نگاہ نے سمجھا دیا مجھے   میں اور آرزوئے وصالِ پری رُخاں اس عشقِ سادہ لوح نے بھٹکا دیا مجھے   ہر بار …