ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے (ادا جعفری)
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے آئے تو سہی ، بر سرِ الزام ہی آئے حیران ہیں ، لب بستہ ہیں ، دلگیر ہیں غنچے خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے لمحاتِ مسرت ہیں تصور سے گریزاں یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے تاروں سے سجا لیں …