وہ شاخِ مہتاب کٹ چکی ہے (محسن نقوی)
وہ شاخِ مہتاب کٹ چکی ہے بہت دنوں سے وہ شاخِ مہتاب کٹ چکی ہے جس پہ تم نے گرفتِ وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے بہت دنوں سے وہ دردِ احساس چھٹ چکی ہے کہ جس کے ذروں پہ تم نے پلکوں کی جھالروں کے تمام نیلم لٹا دیئے تھے! اور …