Category «شاعری»

وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھی (آنس معین)

وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھی عجیب شخص ہے اپنا بھی ہے پرایا بھی یہ انتظار سحر کا تھا یا تمہارا تھا دیا جلایا بھی میں نے دیا بجھایا بھی میں چاہتا ہوں ٹھہر جائے چشمِ دریا میں لرزتا عکس تمہارا بھی میرا سایا بھی بہت مہین تھا پردہ لرزتی آنکھوں کا مجھے …

یہ اور بات کہ رنگِ بہار کم ہو گا (آنس معین)

یہ اور بات کہ رنگِ بہار کم ہو گا نئی رتوں میں درختوں کا بار کم ہو گا تعلقات میں آئی ہے بس یہ تبدیلی ملیں گے اب بھی مگر انتظار کم ہو گا میں سوچتا رہا کل رات بیٹھ کر تنہا کہ اس ہجوم میں میرا شمار کم ہو گا پلٹ تو آئے گا …

عجب تلاشِ مسلسل کا انجام ہوا (آنس معین)

عجب تلاشِ مسلسل کا انجام ہوا حصول رزق ہوا بھی تو زیرِ دام ہوا تھا انتظار منائیں گے مل کے دیوالی نہ تم ہی لوٹ کے آئے نہ وقتِ شام ہوا ہر ایک شہر کا معیار مختلف دیکھا کہیں پہ سر کہیں پگڑی کا احترام ہوا ذرا سی عمر عداوت کی لمبی فہرستیں عجیب قرض …

جیون کو دکھ، دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے (آنس معین)

جیون کو دکھ، دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے بچے لیکن سوئے ہوئے تھے، کس سے کہانی کہتے سچ کہنے کا حوصلہ تم نے چھین لیا ہے، ورنہ شہر میں پھیلی ویرانی کو سب ویرانی کہتے وقت گزرتا جاتا اور یہ زخم ہرے رہتے ، تو بڑی حفاظت سے رکھی ہے، تیری نشانی …

سنگ جب آئینہ دکھاتا ہے (امید فاضلی)

سنگ جب آئینہ دکھاتا ہے شیشہ کیا کیا نظر چراتا ہے سلسلہ پیاس کا بتاتا ہے پیاس دریا کہاں بجھاتا ہے ریگزاروں میں جیسے تپتی دھوپ یوں بھی اس کا خیال اتا ہے سن رہا ہوں خرامِ عمر کی چاپ عکس آواز بتا جاتا ہے وہ بھی کیا شخص ہے کہ پاس آ کر فاصلہ …

اپنی فضا سے اپنے زمانوں سے کٹ گیا (امید فاضلی)

اپنی فضا سے اپنے زمانوں سے کٹ گیا پتھر خدا بنا تو چٹانوں سے کٹ گیا پھینکا تھکن نے جال تو کیوں کر کٹے گی رات دن تو بلندیوں میں اڑانوں سے کٹ گیا وہ سر کہ جس میں عشق کا سودا تھا کل تلک اب سوچتا ہوں کیا مرے شانوں سے کٹ گیا پھرتے …

ٹھہری ٹھہری سی طبیعت میں روانی آئی (اقبال اشعر)

ٹھہری ٹھہری سی طبیعت میں روانی آئی آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑے دیکھا آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی مدتوں بعد چلا ان پہ ہمارا جادو مدتوں بعد ہمیں بات بنانی آئی مدتوں بعد پشیماں ہوا دریا ہم سے مدتوں بعد ہمیں پیاس چھپانی آئی …

گیسو رُخِ روشن سے وہ ٹلنے نہیں دیتے (پرنم الہ آبادی)

گیسو رُخِ روشن سے وہ ٹلنے نہیں دیتے دن ہوتے ہوئے دھوپ نکلنے نہیں دیتے آنچل میں چھپا لیتے ہیں شمعِ رُخِ روشن پروانے تو جل جائیں وہ جلنے نہیں دیتے بکھرادی وہیں زُلف ذرا رُخ سے جو سرکی کیا رات ڈھلے رات وہ ڈھلنے نہیں دیتے کس درجہ ہیں بے درد تیرے ہجر کے …

دستور محبت کا سکھایا نہیں جاتا (پرنم الہ آبادی)

دستور محبت کا سکھایا نہیں جاتا یہ ایسا سبق ہے جو پڑھایا نہیں جاتا کمسن ہیں وہ ایسے انہیں ظالم کہوں کیسے معصوم پہ الزام لگایا نہیں جاتا آئینہ دکھایا تو کہا آئینہ رُخ نے آئینے کو آئینہ دکھایا نہیں جاتا کیا چھیڑ ہے آنچل سے گلستاں میں صبا کی ان سے رُخِ روشن کو …

تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی (پرنم الہ آبادی)

تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی محبت کی راہوں میں اکر تو دیکھو تڑپنے پہ میرے نہ پھر تم ہنسو گے کبھی دل کسی سے لگا کر تو دیکھو وفاؤں کی ہم سے توقع نہیں ہے مگر ایک بار ازما کر تو دیکھو زمانے کو اپنا بنا کر تو دیکھا ہمیں بھی تم اپنا …