تم جس خواب میں آنکھیں کھولو (امجد اسلام امجد)
تُم تم جس خواب میں آنکھیں کھولو اس کا روپ امر تم جس رنگ کے کپڑے پہنو وہ موسم کا رنگ تم جس پھول کو ہنس کر دیکھو کبھی نہ وہ مرجھائے تم جس حرف پہ انگلی رکھ دو وہ روشن ہو جائے
اردوکےمشہورشعئرا اور ان کاکلام
تُم تم جس خواب میں آنکھیں کھولو اس کا روپ امر تم جس رنگ کے کپڑے پہنو وہ موسم کا رنگ تم جس پھول کو ہنس کر دیکھو کبھی نہ وہ مرجھائے تم جس حرف پہ انگلی رکھ دو وہ روشن ہو جائے
میں انھیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں چل نکلتے جو مے پئے ہوتے قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہو کاش کہ تم مرے لئے ہوتے میری قسمت میں غم گر اتنا تھا دل بھی یارب کئی دیئے ہوتے آ ہی جاتا وہ راہ پر غالب کوئی دن اور بھی جئے ہوتے
دیکھ کر دل کشی زمانے کی آرزو ہے فریب کھانے کی اے غمِ زندگی نہ ہو ناراض مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی ظلمتوں سے نہ ڈر کہ راستے میں روشنی ہے شراب خانے کی آ ترے گیسوؤں کو پیار کروں رات ہے مشعلیں جلانے کی کس نے ساغر عدم بلند کیا تھم گئیں گردشیں …
ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کا سامنے نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی نفتروں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی …
!سنا ے زمیں پر۔۔۔۔۔ سُنا ہے زمیں پر وہی لوگ ملتے ہیں ۔۔۔۔۔جن کو کبھی آسمانوں کے اپس پار روحوں کے میلے میں اِک دوسرے کی محبت ملی ہو۔۔۔۔! مگر تم کہ میرے لیے نفرتوں کے اندھیرے میں ہنستی ہوئی روشنی ہو !لہو میں رچی !!رگوں میں بسی ہو ہمیشہ سکوتِ شبِ غم میں …
ایک لڑکی گلاب چہرے پہ مسکراہٹ چمکتی آنکھوں میں شوخ جذبے وہ جب بھی کالج کی سیڑھیوں سے سہیلیوں کو لئے اترتی تو ایسے لگتا کہ جیسے دل میں اتر رہی ہو کچھ اس تیقن سے بات کرتی کہ جیسے دنیا اسی کی آنکھوں سے دیکھتی ہو وہ اپنے رستے پہ دل بچھاتی ہوئی نگاہوں …
رشحات کوئی شاخِ تشنہ و خشک جس سے ہری نہ ہو وہ سحاب کیا؟ جو چھلک کے رنگ نہ بھر سکے رگ و ریشہ میں وہ شباب کیا؟ دلِ گمشدہ کو میں ڈھونڈنے کہیں شب کو محوِ جنوں چلا! تو صدا سی آئی یہ سینہ سے کہ تلاشِ خانہ خراب کیا؟ طرب آفریں سہی رت، …
سائے ایسی راتیں بھی کئی گزری ہیں جب تِری یاد نہیں آئی ہے درد سینے میں مچلتا ہے مگر لب پہ فریاد نہیں آتی ہے ہر گنہ سامنے آ جاتا ہے جیسے تاریک چٹانوں کی قطار نہ کوئی حیلئہ تیشہ کاری نہ مداوائے رہائی، نہ قرار ایسی راتیں بھی ہیں گزری مجھ پر جب تری …
اسے کہنا اسے کہنا دسمبر آ گیا ہے دسمبر کے گزرتے ہی برس اک اور ماضی کی گپھا میں ڈوب جائے گا اسے کہنا دسمبر لوت آئے گا مگر جو خون سو جائے گا جسموں میں نہ جائے گا اسے کہنا ہوائیں سرد ہیں اور زندگی کے کہرے دیواروں میں لرزاں ہیں اسے کہنا شگوفے …
روشن بام ہے، چاند اترا ہے خنداں تارے، سرخ رومالوں والے لڑکے، استقبالی محرابوں کے رستے پر سف بستہ ہیں دف پر ضربت، قصر میں نوبت اور میدان میں جلتی گندھک کی چنگاری جب سمٹی تو گھر کی چوکھٹ کے سہرے کا پھول بنی ہے ڈھولک پر اس ساعت کی انگشتِ حنائی جو فاتح ہے …