وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے (نوشی گیلانی)
وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے کہ جس طرح کوئی لہجہ بدلتا جاتا ہے یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلتے مگر وہ شخص تو راستہ بدلتا جاتا ہے رُتیں وصال کی اب خواب ہونے والی ہیں کہ اس کی بات کا لہجہ بدلتا جاتا ہے رہا جو دھوپ میں …