Category «شاعری»

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو (مومن خان مومن)

وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ جو لطف  مجھ پہ تھے پیشتر وہ کرم کہ تھا مِرے حال پر مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ …

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا (مومن خان مومن)

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا تم میرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا حالِ دل یار کو لکھوں کیوں کر ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا چارۃ دل سوائے صبر نہیں سو تمہارے سوا …

نظر فریب نظاروں کو آگ لگ جائے (ناز خیالوی)

نظر فریب نظاروں کو آگ لگ جائے مری دعا ہے بہاروں کو آگ لگ جائے خوشی کو چھین لیں، مشکل میں کام آ نہ سکیں یہی ہیں یار تو یاروں کو آگ لگ جائے پناہیں دامنِ طوفاں میں مل گئیں مجھ کو مری بلا سے کناروں کو آگ لگ جائے جلا رہے ہیں مجھے بے …

دیکھتے ہو جو روز خواب میں خواب (ناز خیالوی)

دیکھتے ہو جو روز خواب میں خواب ڈال دیں گے تمہیں عذاب میں خواب خواب میں ماہتاب دیکھتے ہیں کیسے دیکھیں گے ماہتاب میں خواب ہم حقیقت پرست رندوں نے گھول کر پی لئے شراب میں خواب عکس دیکھو ذرا ستاروں کے جیسے اترے ہوئے ہوں آب میں خواب ان سے صرفِ نظر کروں کیسے …

تمہاری راہگزر سے گزر کے دیکھتے ہیں (ناز خیالوی)

تمہاری راہگزر سے گزر کے دیکھتے ہیں پھر اس کے بعد نتیجے سفر کے دیکھتے ہیں یونہی سہی یہ تماشہ بھی کر کے دیکھتے ہیں کوئی سمیٹ ہی لے گا بکھر کے دیکھتے ہیں ہمیں ہواؤں کے تیور جو دیکھنے ہوں کبھی چراغِ جاں کو ہتھیلی پہ دھر کے دیکھتے ہیں ملال یہ ہے کہ …

اہل دِل خواب ہوئے (ناز خیالوی)

اہل دِل خواب ہوئے سخت نایاب ہوئے آپ کو یاد کیا جب بھی بے تاب ہوئے بارشیں خوب ہوئیں خشک تالاب ہوئے دھول شہروں میں اڑی دشت سیراب ہوئے غم کی جاگیر ملی ہم بھی نواب ہوئے پھول مرجھائے رہے خار شاداب ہوئے

یاد آتا ہے روز و شب کوئی (ناصر کاظمی)

یاد آتا ہے روز و شب کوئی ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی لبِ جُو چھاؤں میں درختوں کی وہ ملاقات تھی عجب کوئی جب تجھے پہلی بار دیکھا تھا وہ بھی تھا موسمِ طرب کوئی کچھ خبر لے کے تیری محفل سے دور بیٹھا ہے جاں بلب کوئی نہ غمِ زندگی نہ دردِ …

ﻭﮦ ﺍِﺱ ﺍﺩﺍ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﯾُﻮﮞ ﺑَﮭﻼ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ (ناصر کاظمی)

ﻭﮦ ﺍِﺱ ﺍﺩﺍ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﯾُﻮﮞ ﺑَﮭﻼ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﮨﺰﺍﺭ ﺑﺎﺭ ﻣِﻠﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺁﺷﻨﺎ ﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﺧﺎﺹ ﻋِﻨﺎﯾﺖ ﮐﮧ ﺳَﻮ ﮔُﻤﺎﮞ ﮔُﺰﺭﯾﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻭﮦ ﻃﺮﺯِ ﺗﻐﺎﻓﻞ، ﮐﮧ ﻣﺤﺮﻣﺎﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﻭﮦ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﺎﺩﯼ ﺍﺩﺍﺋﯿﮟ ﮐﮧ ﺑِﺠﻠﯿﺎﮞ ﺑﺮﺳﯿﮟ ﻭﮦ ﺩﻟﺒﺮﺍﻧﮧ ﻣﺮُﻭّﺕ ﮐﮧ ﻋﺎﺷﻘﺎﻧﮧ ﻟﮕﮯ ﺩﮐﮭﺎﺅﮞ ﺩﺍﻍِ ﻣﺤﺒّﺖ ﺟﻮ ﻧﺎﮔﻮﺍﺭ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳُﻨﺎﺅﮞ …

نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں (ناصر کاظمی)

نیتِ شوق بھر نہ جائے کہیں تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں آرزو ہے کہ تُو یہاں آئے اور پھر عمر بھر نہ جائے کہیں آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد آج کا دن گزر نہ جائے کہیں نہ مِلا کر اداس لوگوں سے حُسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں آؤ …

فکر تعمیر آشیاں بھی ہے (ناصر کاظمی)

فکر تعمیر آشیاں بھی ہے خوف بے مہری خزاں بھی ہے خاک بھی اڑ رہی ہے رستوں میں آمد صبح کا سماں بھی ہے رنگ بھی اڑ رہا ہے پھولوں کا غنچہ غنچہ شرر فشاں بھی ہے اوس بھی ہے کہیں کہیں لرزاں بزم انجم دھواں دھواں بھی ہے کچھ تو موسم بھی ہے خیال …