پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے، خبردار سے ہیں (گلزار)

پیڑ کے پتوں میں ہلچل ہے، خبردار سے ہیں شام سے تیز ہوا چلنے کے آثار سے ہیں ناخدا دیکھ رہا ہے کہ میں گرداب میں ہوں اور جو پُل پہ کھڑے لوگ ہیں، اخبار سے ہیں چڑھتے سیلاب میں ساحل نے تو منہ ڈھانپ لیا لوگ پانی کا کفن لینے کو تیار سے ہیں …

مجھ کو شکستِ دل کا مزہ یاد آ گیا (خمار بارہ بنکوی)

مجھ کو شکستِ دل کا مزہ یاد آ گیا تم کیوں اداس ہو گئے، کیا یاد آ گیا کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر کچھ یوں بسر ہوئی کہ خدا یاد آ گیا برسے بغیر ہی جو گھٹا گھر کے کھل گئی اک بیوفا کا عہدِ وفا یاد آ گیا واعظ سلام لے کہ …

کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا (گلزار)

کانچ کے پیچھے چاند بھی تھا اور کانچ کے اوپر کائی بھی تینوں تھے ہم وہ بھی تھے اور میں بھی تھا تنہائی بھی یادوں کی بوچھاروں سے جب پلکیں بھیگنے لگتی ہیں سوندھی سوندھی لگتی ہے تب ماضی کی رسوائی بھی دو دو شکلیں دکھتی ہیں اس بہکے سے آئینے میں میرے ساتھ چلا …

سب نے کئے ہیں باغ میں اُن پر نِثار پُھول

سب نے کئے ہیں باغ میں اُن پر نِثار پُھول اے سرو آ تُجھے میں دِلا دُوں اُدھار پُھول لاتا نہیں کوئ مِری تُربت پہ چار پُھول ناپید ایسے ہو گئے پروردگار پُھول جاتی نہیں شباب میں بھی کم سِنی کی بُو ہاروں میں اُن کے چار ہیں کلیاں تو چار پُھول کب حلق کٹ …

ترےنثار نہ دیکھی کوئی خوشی میں نے (قمر جلالوی)

ترےنثار نہ دیکھی کوئی خوشی میں نے کہ اب تو موت کو سمجھا ہے زندگی میں نے یہ دل میں سوچ کے توبہ بھی توڑ دی میں نے نہ جانے کیا کہے ساقی اگر نہ پی میں نے کوئی بلا مرے سر پر ضرور آئے گی کہ تیری زلفِ پریشاں سنوار دی میں نے سحر …

اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو (منیر نیازی)

اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو پھرتے ہیں مثلِ موجِ ہوا شہر شہر میں آوارگی کی لہر ہے اور ہم ہیں دوستو شامِ الم ڈھلی تو …

نقص نکلیں گے ماہِ کامل میں (میر محدی مجروح)

نقص نکلیں گے ماہِ کامل میں​وہ اگر آگئے مقابل میں​​فرطِ شوخی سے وہ نظر نہ پڑے​آئے بھی اور نہ آئے محفل میں​​ہو جو ہمّت تو سب کچھ آساں ہو​دقتیں ہیں جو کارِ مشکل میں​​دیکھ کیفیت گدائے مغاں​کشتیء مئے ہے دستِ سائل میں​​وہ اور آئیں مری عیادت کو​یوں کہو یہ بھی آگئی دل میں​​دام کاکل میں …

مِرا ہی رنگ پریدہ ہر اک نظر میں رہا (احمد فراز)

مِرا ہی رنگ پریدہ ہر اک نظر میں رہاوگرنہ درد کا موسم تو شہر بھر میں رہا کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزلکوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا کچھ اس طرح سے گزری ہے زندگی جیسےتمام عمر کسی دوسرے کے گھر میں رہا وداعِ یار کا منظر فراز یاد نہیںبس …

اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے (امجد اسلام امجد)

اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھےدشتِ طلب میں جا بجا، سنگِ گرانِ خواب تھے حشر کے دن کا غلغلہ، شہر کے بام و دَر میں تھانگلے ہوئے سوال تھے، اُگلے ہوئے جواب تھے اب کے برس بہار کی، رُت بھی تھی اِنتظار کیلہجوں میں سیلِ درد تھا، آنکھوں میں اضطراب …