نہیں وسواس جی گنوانے کے (میر تقی میر)

نہیں وسواس جی گنوانے کے ہائے رے ذوق  دِل لگانے کے میرے تغیرِ حال پر مت جا اتفاقات ہیں زمانے کے دمِ آخر ہی کیا نہ آنا تھا اور بھی وقت تھے بہانے کے اس کدورت کو ہم سمجھتے ہیں ڈھب ہیں یہ خاک میں ملانے کے دل و دیں ہوش و صبر سب ہی …

عمر بھر ہم رہے شرابی سے (میر تقی میر)

عمر بھر ہم رہے شرابی سے دلِ پُر خوں کی اک گلابی سے جی ڈھا جائے  ہے سحر سے آہ رات گزرے گی کس خرابی سے کھِلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے اُس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے کام تھے عشق میں بہت پر میر ہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے

تا بہ مقدور انتظار کیا (میر تقی میر)

تا بہ مقدور انتظار کیا دل نے اب زور بے قرار کیا دشمنی ہم سے کی زمانے نے کہ جفا کار تجھ سا یار کیا یہ توہم کا کارخانہ ہے یاں وہی ہے جو اعتبار کیا ایک ناوک نے اس کی مژگاں کے طائرِ سدرہ تک شکار کیا صد رگِ جاں کو تاب دے باہم …

اُس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا (میر تقی میر)

اُس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا اے کبک پھر بہ حال بھی آیا نہ جائے گا ہم رہروانِ راہِ فنا ہیں بہ رنگِ عمر جاویں گے ایسے، کھوج بھی پایا نہ جائے گا پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دل تو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا اب …

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے (میر تقی میر)

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے لگنے نہ دے بس ہو تو اس کے گوہر گوش کا بالے تک اس کو فلک چشمِ مہ و خور کی پتلی کا تارا جانے ہے چارہ گری بیمارئ دل کی رسمِ شہرِ حسن نہیں …

دل میں اور تو کیا رکھا ہے (ناصر کاظمی)

دل میں اور تو کیا رکھا ہے تیرا درد چھپا رکھا ہے اتنے دکھوں کی تیز ہوا میں دل کا دیپ جلا رکھا ہے دھوپ سے چہروں نے دُنیا میں کیا اندھیر مچا رکھا ہے اس نگری کے کچھ لوگوں نے دکھ کا نام دوا رکھا ہے وعدۃ یار کی بات نہ چھیڑ یہ دھوکا …

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا(ناصر کاظمی)

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تِری یاد تھی اب یاد آیا آج مشکل تھا سنبھلنا  اے دوست تو مصیبت میں عجب یاد آیا تیرا بھولا ہوا پیمانِ وفا مر رہیں گے اگر اب یاد آیا حالِ دل ہم بھی سناتے لیکن جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا بیٹھ کر سایئہ گل میں …

اپنی دھن میں رہتا ہوں (ناصر کاظمی)

اپنی دھن میں رہتا ہوں میں بھی تیرے جیسا ہوں او پچھلی رُت کے ساتھی اب کے برس میں تنہا ہوں تیری گلی میں سارا دن دُکھ کے کنکر چُنتا ہوں مجھ سے آنکھ ملائے کون میں تیرا آئینہ ہوں میرا دیا جلائے کون میں تِرا خالی کمرہ ہوں تیرے سوا مجھے پہنے کون میں …

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ (ناصر کاظمی)

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران  کر گیا وہ کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا  دورِ آسماں بھی جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ    شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں …

عشق جب زمزمہ پیرا ہوگا (ناصر کاظمی)

عشق جب زمزمہ پیرا ہوگا حسن خود محوِ تماشا ہوگا دائم آباد رہے گی دنیا ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا ہم تجھے بھول کے خوش بیٹھے ہیں ہم سا بے درد کوئی کیا ہوگا پھر سلگنے لگا صحرائے خیال ابر گھِر کر کہیں برسا ہو گا شام سے سوچ رہا ہوں …