ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے (نوشی گیلانی)
ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے اب اس کی مرضی کہ وہ خزاں کو بہار لکھ دے بہار کو انتظار لکھ دے سفر کی خواہشوں کو واہموں کے عذاب سے ہم کنار لکھ دے ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے ہوا کی مرضی کہ وصل موسم میں ہجر کو حصہ دار لکھ دے محبتوں میں …