ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے (نوشی گیلانی)

ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے اب اس کی مرضی کہ وہ خزاں کو بہار لکھ دے بہار کو انتظار لکھ دے سفر کی خواہشوں کو واہموں کے عذاب سے ہم کنار لکھ دے ہوا کو لکھنا جو آگیا ہے ہوا کی مرضی کہ وصل موسم میں ہجر کو حصہ دار لکھ دے محبتوں میں …

میں اک موج ہوں (باقی احمد پوری)

موج میں اک موج ہوں اور اپنے ہی دریائے حسرت مکاں میں اِدھر سے اُدھر ایک بے نام ساحل کی جانب ازل سے رواں ہوں نہ جانے کہاں ہوں میں اک موج ہوں سرکش و نا شکیبا شبِ ماہ میں اور وحشت بڑھے گی درندوں کی مانند ہر شے سے بھڑ کر کئی زخم کھا …

سرِ شام  میرے دریچے پہ جھک کر (ثمینہ راجہ)

رفیق سرِ شام  میرے دریچے پہ جھک کر گلِ زرد کی بیل نے یہ کہا استعارہ ہوں میں منتظر آنکھ کا جب ہوا سرسرائی تو مدت سے افسردہ پردوں نے انگڑائی لی اور چاروں طرف ایک بے نام دکھ کی مہک رچ گئی کارنس پر رکھی ایک دوشیزہ تصویر کے گال پر منجمد اشک بولا …

دروازہ کھلا رکھنا (ابنِ انشا)

دل درد کی شدت سے خُوں گشتہ و سی پارہ اِس شہر میں پھرتا ہے  اِک وحشی و آوارہ شاعر ہے کہ عاشق ہے جوگی ہے کہ بنجارہ دروازہ کھلا رکھنا   سینے سے گھٹا اُٹھے آنکھوں سے جھڑی برسے پھاگن کا نہیں بادل جو چار گھڑی برسے برکھا ہے یہ بھادوں کی برسے تو …

پاگل پن (سلیم الرحمٰن )

کون مجھے یہ سمجھائے گا خوشبو کے پیچھے مت بھاگو اس کی منزل کوئی نہیں ہے رنگوں کی دہلیز سے آگے کچھ بھی نہیں ہے   اندھیارے کی ساری راہیں بھیدوں کے جنگل کی جانب جاتی ہیں دور ہی دور سے انجان آوازیں مجھ کو اپنے پاس بلاتی ہیں   خوشبو کے پیچھے ہی پیچھے …

دل دکھتا ہے (محسن نقوی)

دل دکھتا ہے آباد گھروں سے دور کہیں جب بنجر بن میں آگ جلے دل دکھتا ہے پردیس کی بوجھل راہوں میں جب شام ڈھلے دل دکھتا ہے جب رات کا قاتل سناٹا پُر ہول ہوا کے وہم لیے قدموں کی چاپ کے ساتھ چلے دل دکھتا ہے

اِک بار کہو تم میری ہو (ابنِ انشا)

ہم گھوم چکے بستی بن میں اِک آس کی پھانس لئے من میں کوئی ساجن ہو کوئی پیارا ہو کوئی دیپک ہو کوئی تارا ہو جب جیون رات اندھیری ہو اِک بار کہو تم میری ہو               جب ساون بادل چھائے ہوں جب پھاگن پھول کھِلائے ہوں جب چندا رُوپ لٹاتا ہو جب سورج …

ہستی اپنی حباب کی سی ہے (میر تقی میر)

ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے نازکی اُس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے بارہا اس کے در پہ جاتا ہوں حالت اب اضطراب کی سی ہے میں جو بولا ، کہا کہ یہ آواز اُسی خانہ خراب کی سی ہے میر اُن نیم …

دیکھ تو دِل کہ جاں سے اٹھتا ہے (میر تقی میر)

دیکھ تو دِل کہ جاں سے اٹھتا ہے یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے گور کِس دِل جلے کی ہے یہ فلک شعلہ اِک صبح یاں سے اٹھتا ہے خانئہ دِل سے زینہار نہ جا کوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے بیٹھنے کون دے ہے پھِر اُس کو جو تِرے آستاں سے اٹھتا ہے …