گئی رتوں میں تو شام و سحر نہ تھے ایسے (احمد فراز)
گئی رتوں میں تو شام و سحر نہ تھے ایسے کہ ہم اداس بہت تھے مگر نہ تھے ایسے یہاں بھی پھول سے چہرے دکھائی دیتے تھے یہ اب جو ہیں یہی دیوار و در نہ تھے ایسے ملے تو خیر نہ ملنے پہ رنجشیں کسی کس اُس سے اپنے مراسم تھے پر نہ تھے …