گئی رتوں میں تو شام و سحر نہ تھے ایسے (احمد فراز)

گئی رتوں میں تو شام و سحر نہ تھے ایسے کہ ہم اداس بہت تھے مگر نہ تھے ایسے یہاں بھی پھول سے چہرے دکھائی دیتے تھے یہ اب جو ہیں یہی دیوار و در نہ تھے ایسے ملے تو خیر نہ ملنے پہ رنجشیں کسی کس اُس سے اپنے مراسم تھے پر نہ تھے …

مِرے ہم نفس مِرے ہمنوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے (شکیل بدایونی)

  مِرے ہم نفس مِرے ہمنوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے میں ہوں دردِ عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دعا نہ دے   مجھے چھوڑ دے مِرے حال پر تِرا کیا بھروسا اے چارہ گر یہ تِری نوازشِ مختصر مِرا درد اور بھڑھا نہ دے   مِرا عزم اتنا بلند ہے …

اے محبت تِرے انجام پہ رونا آیا (شکیل بدایونی)

اے محبت تِرے انجام پہ رونا آیا جانے کیوں آج تِرے نام پہ رونا آیا   یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی تھی آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا   کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ منزلِ عشق میں ہر گام پہ رونا آیا   مجھ پہ ہی …

فاصلے کے معنی کا  کیوں فریب کھاتے ہو (احمد ندیم قاسمی)

فاصلے کے معنی کا  کیوں فریب کھاتے ہو جتنے دور جاتے ہو ، اتنے پاس آتے ہو رات ٹوٹ پڑتی ہے جب  سکوتِ زنداں پر تم مِرے خیالوں میں چُھپ کے گنگناتے ہو میری خلوتِ غم کے آہنی دریچوں پر اپنی مسکراہٹ کی شمعیں جلاتے ہو جب تنی سلاخوں سے جھانکتی ہے تنہائی دل کی …

قرارِ جاں بھی تمہی ، اضطرابِ جاں بھی تمہی (احمد ندیم قاسمی)

قرارِ جاں بھی تمہی ، اضطرابِ جاں بھی تمہی مرا یقیں بھی تمہی ، مرا گماں بھی تمہی تمہاری جان ہے نکہت، تمہارا جسم بہار مری غزل بھی تمہی، میری داستاں بھی تمہی یہ کیا طلسم ہے ، دریا میں بن کے عکسِ قمر رُکے ہوئے بھی تمہی ہو ،  رواں دواں بھی تمہی خدا …

شام کو صبحِ چمن یاد آئی (احمد ندیم قاسمی)

          شام کو صبحِ چمن یاد آئی کس کی خوشبوئے بدن یاد آئی غزل جب خیالوں میں کوئی موڑ آیا تیرے گیسو کی شکن یاد آئی یاد آئے تِرے پیکر کے خطوط اپنی کوتاہئی فن یاد آئی چاند جب دور افق میں ڈوبا تیرے لہجے کی تھکن یاد آئی دن شعاعوں میں الجھتے گزرا رات …

لینڈ سکیپ (گلزار)

دور سنسان سے ساحل کے قریب ایک جواں پیڑ کے پاس عمر کے درد لیے، وقت کی مٹیالی نشانی اوڑھے بوڑھا سا پام کا اک پیڑ کھڑا ہے کب سے سینکڑوں سال کی  تنہائی کے بعد جھک کے کہتا ہے جواں پیر سے ۔۔۔۔۔۔یار سرد سناٹا ہے! تنہائی ہے! کچھ بات کرو!

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں (ظہور نظر)

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں ترکِ محبت ترکِ تمنا کر چکنے کے بعد ہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں اڑتے …

سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ (ن م راشد)

سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ   سوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہ​ میں ابھی اس کو شناسائے محبت نہ کروں رُوح کو اس کی اسیرِ غمِ الفت نہ کروں اُس کو رسوا نہ کروں ، وقفِ مصیبت نہ کروں سوچتا ہوں کہ ابھی رَنج سے آزاد ہے وہ …

نظروں کے سامنے ہے اک شوخ ماہ پارہ (ماہرالقادری)

مشاہدہ نظروں کے سامنے ہے اک شوخ ماہ پارہ میں لڑکھڑا رہا ہوں دینا کوئی سہارا وہ اس کا میری جانب یکبارگی اشارہ رخ جس طرح بدل دے دریا کا تیز دھارا اس جانِ گلستاں نے انگڑائی ناز سے لی یا طاقِ مے کدہ سے شیشہ کوئی اتارا رنگیں لبوں پہ رقصاں ہلکی سی مسکراہٹ …